اہم خبربلوچستانپاکستان

مولانافضل الرحمان کی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات، چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر اتفاق

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر آئین کو غلط استعمال کیا، طاقت کے ذریعے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا اور آئین کے آرٹیکل 2 اے کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر سیاسی اقدام کیا گیا۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر نیا میثاق جمہوریت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، مگر ملک میں برداشت کی قوت ختم ہوتی جا رہی ہے اور معاملات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا تو پی ٹی آئی کے رہنماو¿ں نے ان سے رابطہ کرکے کہا کہ اس معاملے میں ان کا بھی کوئی کردار ہونا چاہیے۔ اگلے روز ملاقات ہوئی، جس میں رانا ثناءاللہ بھی موجود تھے اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ اسی رات وزیراعظم کے دفتر سے فون آیا کہ وزیراعظم انہیں کھانے پر مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعوت قبول کی اور وزیراعظم سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق رات ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار کا فون آیا کہ کابینہ اس تجویز کو قبول نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش تھی کہ معاملے کو مناسب انداز میں حل کیا جائے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مو¿قف اختیار کیا جاتا ہے کہ آئینی طریقہ کار مکمل کیا گیا، لیکن ان کے بقول آئین کو غلط استعمال کیا گیا اور طاقت کے ذریعے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کے حالات خیبرپختونخوا سے بہتر ہیں؟ وہاں کمشنر بھی اغوا ہو جاتے ہیں، جبکہ خان آف قلات کے بیٹے کے اغوا کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت شہدا کی جماعت ہے اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وفاق ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت تشدد کا راستہ اختیار کرے گی تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے معدنیات کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جماعتی قوت کو حکومتی تجاوزات روکنے کے لیے سامنے لایا جا رہا ہے اور ان کے بقول ان کی جماعت نے کوئی تجاوز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹکراو¿ کے لیے تیار ہے تو وہ بھی اس کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کافی عرصے سے لڑائی نہیں ہوئی، اس لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک میز پر بیٹھیں اور نیا میثاق جمہوریت کریں، جس میں دونوں فریق شامل ہوں۔ انہوں نے پی ڈی ایم کی موجودہ صورت حال پر بھی تنقید کی۔دورانِ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی نے مولانا فضل الرحمان کے بعض الفاظ کارروائی سے حذف کر دیے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *