پاکستانی کرکٹر ابرار احمد کا دی ہنڈریڈ لیگ میں بھارتی ملکیتی فرنچائز سن رائزرز لیڈز کے ساتھ ایک لاکھ 90 ہزار پاؤنڈز میں معاہدہ کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد بھارتی میڈیا اور بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے اپنے ایک کالم میں اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے متنازع بیانات دیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک پاکستانی کھلاڑی کو ملنے والی فیس بالآخر ٹیکس کی صورت میں پاکستان حکومت تک پہنچتی ہے، جسے انہوں نے منفی انداز میں پیش کیا۔
گواسکر کے ان بیانات پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں کئی صارفین اور ماہرین نے ان کے مؤقف کو غیر مناسب اور کھیل کو سیاست سے جوڑنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد ابرار احمد کی اس کامیابی کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے اور اسے ان کی کارکردگی کا صلہ قرار دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ ملک کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔
یہ معاملہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا ممکن ہے یا نہیں، اور کس حد تک کھلاڑیوں کے پیشہ ورانہ فیصلوں کو سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
