بلوچستان ہائی کورٹ نے زیارت، ہرنائی اور سنجاوی روڈ منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ دو رکنی بینچ، جس میں چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل شامل تھے، نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی پیش رفت، ٹینڈرنگ اور فنڈنگ کے تمام مراحل جون 2026 تک مکمل کیے جائیں۔ عدالت میں بتایا گیا کہ زیارت موڑ سے ہرنائی اور سنجاوی تک 146.5 کلومیٹر طویل شاہراہ کی موجودہ چوڑائی 3.65 میٹر سے بڑھا کر 4.5 میٹر کی جائے گی اور اسے این ایچ اے کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 10 ارب 79 کروڑ روپے تھی، جسے بعد ازاں کم کر کے 8 ارب 37 کروڑ روپے کیا گیا، اور پھر مزید جغرافیائی، حفاظتی اور تکنیکی ضروریات کے سبب 17 ارب 49 کروڑ روپے تک بڑھا دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ این ایچ اے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈویلپمنٹ حکومت بلوچستان پلاننگ کمیشن سے رابطے میں رہیں اور تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ منصوبے آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل ہوں اور بروقت مکمل کیے جائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ این ایچ اے کے ممبر (ویسٹ زون) آئندہ سماعت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک عدالت دوبارہ طلب نہ کرے، اور تمام متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ذاتی حیثیت میں جواب دہ ہوں۔ منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بین الصوبائی اور بین الاضلاعی رابطے بہتر ہوں گے بلکہ عوام کو بھی ترقیاتی سہولیات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
