صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مبینہ خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کرلیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورک سے متعلق ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو منظم انداز میں استعمال کر رہی ہیں، گرفتار خاتون کے کیس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور بعض اوقات جنسی استحصال کے ذریعے دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس نیٹ ورک میں خواتین کو نا صرف ذہنی طور پر متاثر کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار بھی کیا جاتا ہے۔
پریس بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ ایک ملزم نے اپنی اہلیہ کے نام اور شناخت کو دانستہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطوں کے لیے استعمال کیا، اسی گھر میں ایک خاتون خودکش حملہ آور نے قیام بھی کیا، جسے بعد ازاں تربیت کے لیے افغانستان بھیجا گیا، اس طرح کے واقعات سے یہ تاثر رد ہوتا ہے کہ خواتین صرف جبری طور پر لاپتا ہوتی ہیں بلکہ بعض کیسز میں وہ خود بھی گھروں سے باہر نکل کر ایسے نیٹ ورکس کا حصہ بنتی ہیں، جسے بعد میں ریاست کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک میں مختلف تنظیموں کا کردار سامنے آیا ہے جہاں ایک جانب مبینہ طور پر ذہنی پراپیگنڈہ اور انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کا عمل کیا جاتا ہے، جب کہ دوسری جانب بھرتی، تربیت اور کارروائی کے مراحل الگ گروپس کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں، اگر کوئی خاتون حملہ آور کامیاب ہو جائے تو اسے ایک علامت بنا کر مزید بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پریس بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ تحقیقات سے پتا چلا ہے ناکامی یا گرفتاری کی صورت میں متعلقہ تنظیمیں اس سے لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں، خواتین کا اس طرح استعمال ناصرف بلوچ ثقافت کے خلاف ہے بلکہ مذہبی اصولوں سے بھی متصادم ہے، دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
