بلوچستان

بلوچستان میں ژالہ باری اور طوفانی بارش نے روزمرہ زندگی مفلوج کر دی

بارش کے باعث سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچے اور انار کے باغات کو نقصان پہنچا، رابطہ سڑکیں بند بولان اور باجوڑ میں آسمانی بجلی اور مکان کی چھت گرنے سے خواتین بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے ، رپورٹ بلوچستان میںمختلف حادثات میں سات افراد چل بسے ،پشتے میں شگاف سے 100 سے زائد مکانات متاثر ، تقریبا 400 ایکڑ زرعی اراضی زیرِآب موسمیاتی پیرامیٹرز مغربی ہوائوں کے زیراثر بارشوں کیلئے سازگار ماحول پیدا کررہے ہیں، چار اپریل تک مزید بارش کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات کا انتباہ این ایچ اے پولیس کی مختلف علاقوں میں 4 اپریل تک وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی کے پیشِ نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری
جمعرات 2 اپریل 2026 14:55

کوئٹہ /کراچی /بولان/باجوڑ/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – این این آئی۔ 02 اپریل2026ء) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے ،سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچے اور انار کے باغات کو نقصان پہنچا، رابطہ سڑکیں بند ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا جبکہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں بھی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تیز ہوا کے ساتھ موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا جبکہ چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت سمیت بلوچستان کے شمالی علاقوں میں طوفانی بارش اور ژالہ باری ریکارڈ کی گئی، بارش کے باعث سیب، خوبانی، چیری، بادام، انجیر، آلوچے اور انار کے باغات کو نقصان پہنچا۔

اس کے علاوہ ہرنائی، چمن، قلات، سوراب اور دیگر علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں اور گاڑیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔ادھر تحصیل گلستان میں مسافر وین اور ٹرک پانی میں بہہ گیا جس پر 12افراد کو ریسکیو کرلیا گیا، ہرنائی میں ریلے میں پھنسی گاڑی میں سوار افراد نے چھلانگ لگا کر جان بچائی جب کہ 6 ٹرک بھی سیلابی ندی میں پھنس گئے۔
بولان اور باجوڑ میں آسمانی بجلی اور مکان کی چھت گرنے سے خواتین بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، بھکر میں بارش سے کمرے کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں خاتون جاں بحق اور بچہ زخمی ہوگیا۔دریں اثناء پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق کچھی میں دریائے ناڑی کے پشتے میں شگاف سے 100 سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہیں جس سے تقریبا 400 ایکڑ زرعی اراضی زیرِآب آ گئی اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہو گئے۔
بیان کے مطابق صوبہ بلوچستان میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 7 افراد جاں بحق، 4 زخمی ہو گئے۔ضلع ہرنائی میں بارش سے 60 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔بارشوں کے باعث ہرنائی تا سنجاوی اور کوئٹہ شاہراہیں آمد و رفت کے لیے بند کر دی گئیں۔پی ڈی ایم اے کی جانب جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلابی ریلوں کے باعث صوبے میں متعدد رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
بارشوں سے ہرنائی، چمن، قلعہ عبداللہ کے ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتِحال پیدا ہو گئی ہے۔ دریں اثناء کراچی کے مختلف علاقوں میں دیر رات گئے اور علی الصبح ہونے والی بوندا باندی کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا ،آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایم اے جناح روڈ، بفرزون، ملیر، کورنگی، ڈیفنس، شاہ فیصل کالونی، ناظم آباد اور گارڈن سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی اور ہلکی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
شہر بھر میں موسم خوشگوار ہے اور تیز ہوائیں چلنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 23.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہر اور گردونواح میں بارش کی پیش گوئی کے باعث حفاظتی بنیاد پر کچھ علاقوں میں بجلی سپلائی معطل کی جاسکتی ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق بارش رکنے اور فیلڈ ٹیموں سے کلیئرنس کے بعد سپلائی بحال کی جاتی ہے۔دریں اثناء کراچی کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کر دیے گئے،محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ ایم نائن موٹر وے پر 20.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرجانی ٹائون میں 12.6 اور گلشن معمار میں 7.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جناح ٹرمینل پر 6.2، کیماڑی میں 6 اور ڈیفنس میں 5 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔دریں اثناء ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر نے کہا کہ موسمیاتی پیرامیٹرز مغربی ہوائوں کے سسٹم کے زیراثر بارشوں کیلئے سازگار ماحول پیدا کررہے ہیں۔انجم نذیر کے مطابق اب تک کراچی میں اپریل میں سب سے زیادہ بارش 1985 میں ریکارڈ ہوئی، 2 اپریل 1985 کو کراچی میں 37 ملی میٹر بارش دیکھی گئی۔
ترجمان محکمہ موسمیات نے بتایا کہ 6 سے 7 سال سے ملک میں موسمی پیٹرن بدل رہے ہیں، گزشتہ سال کراچی میں اپریل میں بارش نہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر مغربی ہواں کے سسٹم کے اثرات ملک کے شمالی علاقے میں زائد رہتے تھے، کچھ موسمیاتی پیرامیٹرز مغربی ہواں کے سسٹم کے زیراثر بارشوں کیلئے سازگار ماحول پیدا کررہے ہیں ادھر نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے ملک کے مختلف علاقوں میں 4 اپریل تک وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی کے پیشِ نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ترجمان موٹر وے پولیس نے کہا کہ بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے اور دورانِ ڈرائیونگ رفتار کم رکھتے ہوئے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ترجمان کے مطابق گاڑی کی لائٹس اور وائپر درست حالت میں رکھے جائیں اور اچانک بریک لگانے سے اجتناب کیا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔موٹر وے پولیس نے ڈرائیورز کو ہدایت کی کہ سفر کے دوران موبائل فون کا استعمال نہ کریں اور مکمل توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز رکھیں۔ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں شہری نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *