بلوچستان

کوئٹہ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں کتابوں کی قلت پر فوری اقدامات کا فیصلہ

کوئٹہ وزیر تعلیم بلوچستان راحیلہ حمید درانی نے کوئٹہ کے سرکاری سکولوں میں درسی کتب کی کمی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کر دی ۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی دارالحکومت کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روز کے اندر درسی کتابوں کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو،اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی، ڈائریکٹر سکولز اور دیگر متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ہنگامی بنیاد پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور درسی کتب کی ترسیل کا عمل تیز کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ محکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے صوبے کے بیشتر اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں درسی کتب کی ترسیل کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم سال 2026 کی داخلہ مہم اور غیر فعال سکولوں کی بحالی کے باعث طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں مزید درسی کتب کی ضرورت پیش آئی۔

راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ دوسرے مرحلے کے تحت اضافی کتب کو کوئٹہ کے مرکزی سٹور تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان کتب کو شفاف اور مؤثر انداز میں سکولوں تک تقسیم کریں۔انھوں نے متعلقہ افسران اور عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ترسیل اور تقسیم کے عمل کی خود نگرانی کریں اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *