بلوچستان

گوادر پورٹ سٹی ماسٹر پلان: نفاذ کے لیے 11 اہم نکات پر اتفاق

گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان 2026 کے تحت مائیکرو پلاننگ کے موثر نفاذ کے لیے 11 اہم نکات کی منظوری دے دی گئی۔ یہ پیشرفت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل معین الرحمان خان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں سامنے آئی۔اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر ٹان پلاننگ شاہد علی، ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالرزاق اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ڈائریکٹر ٹان پلاننگ شاہد علی نے مائیکرو پلاننگ کے مختلف پہلوئوں پر جامع بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد ماسٹر پلان کے وژن کو قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔بریفنگ کے مطابق منظور شدہ 11 نکات میں شہر کے مختلف شعبوں میں مرحلہ وار انفراسٹرکچر کی ترقی، پانی کی فراہمی میں بہتری، بلا تعطل بجلی کی دستیابی، رہائشی و تجارتی زوننگ، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کا قیام شامل ہیں۔

اجلاس میں مائیکرو پلاننگ کے نفاذ کے لیے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں لینڈ پولنگ، اراضی کا حصول، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبے، اور لینڈ پرووائیڈر فریم ورک شامل ہیں۔ مزید برآں جغرافیائی معلوماتی نظام کے استعمال، مرحلہ وار ترقیاتی حکمت عملی اور مقامی آبادی کی شمولیت کو بھی کلیدی عناصر قرار دیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمان خان نے کہا کہ گوادر کی ترقی میں نجی شعبے کا کردار نہایت اہم ہوگا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی تناظر میں گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث یہاں رئیل اسٹیٹ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔دریں اثنا، ڈائریکٹر جنرل نے شہر میں پانی کی فراہمی سے متعلق ایک علیحدہ اجلاس کی بھی صدارت کی۔ اجلاس میں چیف انجینئر حاجی سید محمد، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، سیکرٹری واٹر کمیٹی بابر ناصر اور اسسٹنٹ انجینئر قمبر بلوچ شریک ہوئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت ساواد ڈیم سے روزانہ 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ شادی کور ڈیم بجلی کی عدم دستیابی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عارضی طور پر بند ہے، تاہم اسے ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جی پی اے واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ، جو گزشتہ ہفتے عارضی طور پر بند تھا، اب دوبارہ فعال ہو چکا ہے اور شہر میں پانی کی سپلائی معمول پر آ گئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ صارفین کو ماہانہ بلز جاری کر دئیے گئے ہیں اور ان کی وصولی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے ہدایت کی کہ جہاں بجلی دستیاب نہیں وہاں ایندھن پر چلنے والے پمپنگ اسٹیشنز میں ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جائے، تاہم کسی بھی صورت شہر میں پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *