بلوچستان

کوئٹہ لاہور چاندی منتقلی کیس، سیسے میں تبدیلی کے الزام پر 6 افسران معطل

پاکستان میں کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بلوچستان سے پنجاب منتقلی کے دوران 400 کلوگرام خالص چاندی کی مساوی وزن کے سیسے (لیڈ) سے مبینہ تبدیلی کے الزام میں تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید چھ افسران کو معطل کر دیا ہے۔

معطل کیے جانے والے افسران میں گریڈ 16 کے تین، گریڈ 17، گریڈ 18 اور گریڈ 20 کے ایک، ایک افسر شامل ہیں۔

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس می ںمزید افسران کی شمولیت، غفلت اور نااہلی کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

اس سے قبل کسٹمز حکام نے اپنے دو ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ترجمان محکمہ کسٹمز کے مطابق مذکورہ افسران کو سرکاری طور پر ضبط شدہ 688 کلوگرام چاندی کو 36 سیل شدہ ڈبوں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ذریعے کوئٹہ سے لاہور منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

ترجمان کے مطابق تاہم جب یہ 36 سیل شدہ باکس لاہور میں کھولے گئے تو انکشاف ہوا کہ 400 کلوگرام چاندی کو اسی وزن اور مماثل پیکنگ والی نقلی سیسے کے اینٹوں سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

کسمٹز حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ سیف سٹی کوئٹہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اِس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ضبط شدہ اصل چاندی لے جانے والی گاڑی کی نقل و حمل کے دوران چاندی کو دانستہ طور پر سیسے سے تبدیل کیا گیا۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اس معاملے کی تفصیلات سے واقف کسٹمز کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا ’جب کسٹمز کلیکٹوریٹ کوئٹہ سے بھیجی جانے والی خالص چاندی کا پاکستان منٹ ہائوس لاہور میں تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی نصف سے زائد مقدار تو سرے سے چاندی ہے ہی نہیں۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *