ٹی ٹوئنٹی ایک نازک کھیل ہے۔ ایک درست فیصلہ اگر میچ کو پشت کے بل پٹخ سکتا ہے تو ایک ہی غلط فیصلہ اسے منھ کے بل بھی پٹخ سکتا ہے۔ اور جب کسی ٹیم کی تقدیر پہلے ہی کچے دھاگے سے لٹک رہی ہو تو اس کے پاس ذرا سی غلطی کی بھی مہلت نہیں ہوتی۔ مگر جو ماضی سے سیکھ جائے، وہ پاکستان کرکٹ ہی کیا؟
جو سٹریٹیجی پاکستان نے اسی پالیکیلے میں دو روز پہلے سری لنکا کے خلاف انگلش بیٹنگ دیکھ کر بنائی تھی، وہ بے چاری پھر خطا کھا گئی کہ وہ میچ تو استعمال شدہ پچ پر کھیلا گیا تھا اور اوس کا بھی کوئی کردار نہ تھا مگر یہاں پچ بھی نئی تھی اور اوس بھی یقینی تھی۔
ایک ناپ کی سٹریٹیجی ہر پچ کو راس نہیں آ سکتی۔ پالیکیلے کی کنڈیشنز انگلینڈ کے لیے گھر کی مانند تھیں جبکہ پاکستان متواتر کولمبو میں کھیلتا چلا آ رہا تھا۔ پھر سونے پر سہاگہ پاکستان کی سلیکشن نے کر دکھایا کہ ایک درست فیصلے کے ہمراہ ایک غلط فیصلے کی روایت نبھاتے ہوئے بابر اعظم کو برقرار رکھا گیا۔
اب تو یہ امر مضحکہ خیزی کی حدوں سے بھی گزر چکا ہے کہ اس مڈل آرڈر میں بابر اعظم کو ’سپن کے خلاف مہارت‘ کی بنیاد پر رکھا گیا ہے حالانکہ کوچ مائیک ہیسن بذاتِ خود ان کے سٹرائیک ریٹ سے مطمئن نہیں ہیں۔
جہاں ان کے اوپر تلے سبھی بلے باز 130 سے زیادہ سٹرائیک ریٹ پر بیٹنگ کرنے کے قابل ہیں، وہاں یہ حقیقت بھی لگ بھگ چار برس سے چیخ رہی ہے کہ وہ گُگلی کو پڑھ نہیں سکتے اور ریورس سویپ بھی ان کے کوائف میں شامل نہیں۔
