بلوچستان

بلوچستان حکومت کو مطلوب افراد میں شامل شاہ میر بلوچ: ’میں تو کبھی مفرور نہیں ہوا، میرے سر کی قیمت 30 لاکھ رکھ دی گئی‘

بلوچستان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر شدت پسندی میں ملوث مطلوب افراد کی فہرست میں شامل شاہ میر بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھیں ’غلط معلومات‘ کی بنیاد پر اشتہاری افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے خلاف وہ عدالت سے رُجوع کریں گے۔

لیکن بلوچستان حکومت کا اصرار ہے کہ شاہ میر بلوچ کے خلاف شواہد موجود ہیں اور اُنھیں ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ہی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومتِ بلوچستان نے 11 فروری کو شدت پسندی کے واقعات میں جن 39 مطلوب اشتہاری ملزمان کی فہرست شائع کی تھی اس میں شاہ میر بلوچ کے سر کی قیمت 30 لاکھ مقرر کی گئی تھی۔

کیچ سے تعلق رکھنے والے شہری شاہ میر بلوچ نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ کبھی مفرور نہیں ہوئے بلکہ ہر وقت اپنے علاقے میں موجود رہے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد شاہ میر بلوچ کو عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شاہ میر کے انسداد دہشت گردی کی عدالت تربت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے لیکن پیش نہ ہونے پر ان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’اخبار میں اشتہار کی اشاعت کے بعد شاہ میر نے گرفتاری پیش کی ہے اور ان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘

بی بی سی اردو کے ساتھ شئیر کردہ عدالتی دستاویز جس پر 17 نومبر 2020 کی تاریخ درج ہے، میں لکھا ہے کہ ’پولیس کی جانب سے وارنٹِ گرفتاری کی تعمیل کروانے کی کوششوں کے باوجود ملزم شاہ میر جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش (غائب) ہو گیا ہے۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *