انٹرنیشنل

حکومت کی اپیل پر جنگ بندی، لبنانی وزیر اطلاعات کا مؤقف

لبنان کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی میں اہم اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے اسرائیلی افواج کا ملک سے انخلا ضروری ہو گا۔

وزیر اطلاعات پال مورکوس نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے کو بتایا کہ تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی تھی اور اس میں بنیادی مطالبہ ’لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ تھا، چاہے وہ فضائی ہوں، بحری ہوں یا زمینی۔‘

جنگ بندی کے تحت، بیروت کو’معنی خیز اقدامات‘ کرنے ہوں گے تاکہ حزب اللہ اور دیگر تمام ’باغی غیر ریاستی مسلح گروہوں‘ کو اسرائیلی اہداف پر حملے کرنے سے روکا جا سکے۔

مورکوس کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی لبنانی فوج کی تعیناتی کے لیے ’اہم اقدامات‘ کر چکی ہے اور اس سمت میں کام کر رہی ہے کہ فوج کو ’لبنان میں اسلحے پر مکمل اجارہ داری‘ حاصل ہو۔

تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی قبضہ اور حملے اس بہتری کی راہ میں ’رکاوٹ‘ بنے رہے جن پر حکومت اس جنگ کے آغاز سے قبل کام کر رہی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم دوبارہ ان اہم اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں تاکہ لبنانی فوج کو ایک بار پھر سرحدوں پر تعینات کیا جا سکے۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *