انٹرنیشنل

جوہری ماہرین کو نظرانداز کرنے پر خطرات میں اضافے کا خدشہ، یورپی یونین

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری ماہرین کو امن مذاکرات میں شامل نہ کیا گیا تو ایران سے لاحق خطرات ’مزید خطرناک‘ ہو سکتے ہیں۔

قبرص میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ مشترکہ جامع منصوبہ برائے عمل (JCPOA) سے کمزور ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ ایران کا 2015 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں طے پانے والا جوہری معاہدہ تھا جس سے صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ملک میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بدلے اقتصادی پابندیاں واپس لی جانی تھیں۔

کالاس کے مطابق اگر مذاکرات صرف جوہری (پروگرام) تک محدود ہوں اور مذاکرات کی میز پر جوہری ماہرین موجود نہ ہوں، تو ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچ جائیں گے جو پچھلے معاہدے سے بھی کمزور ہو گا۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر خطے کے مسائل، میزائل پروگرام، پراکسی گروہوں کی حمایت، نیز یورپ میں ہائبرڈ اور سائبر سرگرمیوں کا حل تلاش نہ کیا گیا تو ہم ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کریں گے۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *