ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کچھ دیر قبل ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ایرانی اور پاکستانی حکام کے مطابق وہ علاقائی امن و استحکام پر بات چیت کے لیے پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
عراقچی کی اب تک پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان کے دارالحکومت میں گذشتہ چھ روز سے بعض سڑکیں بند ہیں اور توسیع شدہ ریڈ زون بھی سیل ہے۔ یہیں واقع سرینا ہوٹل میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے ایران کا موقف جاننے کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ سنیچر کے روز روانہ ہوں گے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں بلکہ اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘
امریکہ کے جانب سے اس بار مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان نہیں بھیجا گیا بلکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق انھیں اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ’ضرورت پڑنے پر‘ اسلام آباد روانہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران میں ان افراد سے بات چیت کر رہا ہے جو ’برسرِ اقتدار ہیں۔‘
