انٹرنیشنل

اسلام آباد میں سفارتی ہلچل، ایرانی وزیر خارجہ کی آمد، امریکی وفد کا اعلان مگر ابہام برقرار

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ہمراہ پہنچے تو کئی حلقوں میں یہ امید بندھ گئی کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

پاکستان پہنچنے کے بعد ایرانی حکام نے اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے باقاعدہ ملاقات کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے پاکستانی حکومت گزشتہ ایک ہفتے سے تیاریاں جاری رکھے ہوئے تھی تاہم ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں ’اب تک‘ شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بارہا اعلانات کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دیے۔

تاہم پھر جمعے کی سہہ پہر ایران اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہوئی تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سمیت دیگر مقامی میڈیا نے کہا کہ عراقچی جمعے کی رات سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا سفر کریں گے تاکہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پاکستانی، عمانی اور روسی حکام سے مشاورت کریں۔‘

دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی موقف کو ’براہِ راست سننے‘ کے لیے ہفتے کے روز اسلام آباد جائیں گے۔

ایک جانب امریکی حکام کا پاکستان آمد کا اعلان اور دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کی پاکستان میں موجودگی، مگر ان سب کے بیچ نہ پاکستان، نہ ہی امریکہ کی جانب سے ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول جاری کیا گیا۔

اسی کے سبب یہ ابہام ابھی تک موجود ہے کہ کیا جنگ کے فریقین کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ کیا پاکستان صرف دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے کردار تک ہی محدود رہے گا۔
ایران کا ’اب تک‘ کیا کہنا ہے

ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں بلکہ اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘

خود عراقچی نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ ’ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘

ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور معاون کردار کے تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’اب تک‘ ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے ایجنڈے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *