کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے ایچ سی ایل) کیلئے میڈیکل پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈنگ کی منظوری دیدی ہے، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے متعدد تجاویز اور تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دیدی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو یہاں وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے چیف اکانومسٹ نے اہم معاشی اشاریوں میں حالیہ رجحانات کے بارے میں بریفنگ دی جس میں بالخصوص اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور مجموعی مہنگائی کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایک عرصے کی غیر یقینی صورتحال کے بعد حالیہ اعداد و شمار قیمتوں میں بتدریج استحکام کی نشاندہی کررہے ہیں جس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مربوط اقدامات کا اہم کردار رہا ہے، ادارہ جاتی نظام، خصوصاً نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعے مارکیٹ کی نگرانی مضبوط ہوئی ہے اور بروقت مداخلت ممکن بنائی گئی ہے۔
اجلاس کوبتایاگیا کہ مہنگائی کا دبائو موجود ہونے کے باوجود اس میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور ابھرتے ہوئے رجحانات قیمتوں کے بہتر استحکام کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔ کمیٹی کوبتایاگیا کہ ہفتہ وار نگرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عارضی اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہو گئی ہے،حالیہ ہفتوں میں قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے ،متعدد اشیائے ضروریہ جن میں ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن، ایل پی جی وغیرہ شامل ہیں، کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ چینی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
انڈے، مرغی، دالیں، کوکنگ آئل، روٹی اور دودھ جیسی اشیاء کی قیمتوں میں صرف معمولی اضافہ ہوا ہے جو مجموعی طور پر قیمتوں کے دبائو میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اہم غذائی اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتیں بتدریج زیادہ مستحکم سطح کی جانب بڑھ رہی ہیں اور بعض اشیاء کی قیمتیں دوبارہ اس سطح کے قریب پہنچ رہی ہیں جو غیر یقینی صورتحال سے پہلے موجود تھی۔
اس رجحان کو موثر انتظامی اقدامات،رسدی چین کی بہتر نگرانی اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ باقاعدہ ڈیٹا شیئرنگ اور ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات نے حکومت کی اس صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے کہ وہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا فوری جواب دے سکے اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روک سکے۔کمیٹی نے بروقت پالیسی اقدامات، مضبوط نگرانی کے نظام اور مربوط عملدرآمد کے نتیجے میں مثبت نتائج پراطمینان کااظہارکیا اور بتایا گیا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں واضح استحکام اور مارکیٹ کے اعتماد میں بہتری آئی ہے ۔
ای سی سی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کوششوں کو مسلسل جاری رکھا جائے تاکہ حاصل ہونے والے فوائد کو مستحکم کیا جا سکے اور آنے والے مہینوں میں قیمتوں کے تسلسل کے ساتھ استحکام کو یقینی بنایا جا سکے جو حکومت کے صارفین کے تحفظ اور معاشی توازن برقرار رکھنے کے عزم کے عین مطابق ہے۔ اجلاس میں معمول کے ایجنڈا نکات پر غور کیا گیا اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے متعدد تجاویز کی منظوری دی جن میں تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری شامل تھی۔
اجلاس میں کابینہ ڈویژن کے تحت کینابیز کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے) کی تنصیبات میں سہولیات کی مرمت اور اسے فعال بنانے کے لیے 10 کروڑ روپے، وزارت خزانہ کی سمری پر صوبے میں تعینات پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کے لیے وزیر اعظم کے منظور کردہ مراعاتی پیکج کی معاونت کے ضمن میں حکومت بلوچستان کیلئے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، وزارت قانون و انصاف کی سمری پر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے نفاذ کے ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے اور بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کی سمری پرآٹھ سال بعد ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر پاکستان قومی ہاکی ٹیم کو مالی انعامات دینے کیلئے 3 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی، وزیر اعظم نے پہلے ہی اس کی منظوری دی تھی۔
اجلاس میں وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی واجبات کی ادائیگی کے لیے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے ایچ سی ایل) کے حق میں 5 ارب 98 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی سمری کاجائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے مجموعی رقم میں سے طبی اور پنشن کی ادائیگیوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈنگ کی منظوری دیدی اور قومی انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کو آڈیٹرز کی سفارشات کے مطابق ادائیگی کے معاملے کو متعلقہ ریونیو اتھارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے لیے اٹھانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزارت تجارت کی جانب سے امپورٹ پالیسی آرڈر (آئی پی او) 2022 میں پاکستان کے بین الاقوامی ادرہ محنت (آئی ایل او) کے کنونشنز کے تحت کیے گئے وعدوں کے مطابق ترمیم سے متعلق سمری کی منظوری بھی دی گئی، اس کامقصد جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی اشیاء کی درآمد پر پابندی کی شق کو شامل کرنا ہے۔ وزارت تجارت کی جانب سے پیش کردہ ایک اور سمری میں امپورٹ کم ایکسپورٹ سکیم (آئی پی او) 2022 اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) 2021 میں ترامیم کی منظوری بھی دی گئی جس کے تحت پائلٹ منصوبے کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کو مرمت، بحالی اور بعد ازاں دوبارہ برآمد کے لیے عارضی طور پر درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ ایک سال بعد اس منصوبے کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔
اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کردہ سمری کابھی جائزہ لیاگیا جس میں گوادر ڈنکی سلاٹر ہائوس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق سفارشات کی منظوری طلب کی گئی تھی۔ کمیٹی نے موجودہ ذخیرے کو متعلقہ قواعد و ضوابط اور برآمدی پروٹوکول کے مطابق فروخت کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ ایک سمری پر بھی غور کیا گیاجس میں سابق واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ایکس ڈبلیو ڈسکوز) کے ساتھ پبلک سروس آبلیگیشن (پی ایس او) معاہدے سے متعلق معاملہ شامل تھا۔
کمیٹی نے اس معاملے کو ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کی کمیٹی (سی سی او ایس او ایز) کو بھجوانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایاگیا کہ سی سی او ایس او ایز اس موضوع کے لیے موزوں فورم ہے۔اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین (ویڈیو لنک)، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال چوہدری (ویڈیو لنک )، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
