انٹرنیشنل

محبت کی راہ میں جعلی عامل کا جال — رسومات کے نام پر بلیک میل ہونے والی خاتون کی درد بھری داستان

’میں نے ایک دن انسٹاگرام پر ایک رِیل پوسٹ کی جس پر مجھے ایک پیغام موصول ہوا کہ ’آپ کے ساتھ محبت میں دھوکہ ہوا ہے اور آپ کا دل ٹوٹا ہوا ہے، اپنی پریشانی کے حل کے لیے ہم سے رابطہ کریں، مفت مدد اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔‘

’اسی پیغام کے ساتھ ایک لنک بھی دیا ہوا تھا اور جب میں نہ اُس پر کلک کیا تو میرے سامنے ایک ایسی ویب سائٹ کا پیج کُھلا جسے دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ وہاں ایسی ویڈیوز موجود تھیں کہ جن میں لوگوں نے اپنے مسائل کے حل اور اپنی کامیابیوں کے دعوے کیے ہوئے تھے۔‘

’بس پھر کیا تھا، میں نے بھی ان سے رابطہ کیا۔ انھوں نے مجھے دو تین ’منتر‘ دیے اور ایک خاص طریقہ بتایا۔ اس طریقے پر عمل کرنے کے بعد مُجھے اُس شخص کا پیغام ملا کہ جس کے ساتھ میری ناراضی چل رہی تھی۔‘

’اس کے بعد مجھے ان پر یقین ہو گیا۔ جب دوبارہ ناراضی ہوئی تو میں نے پھر رابطہ کیا، جس پر انھوں نے مختلف رسومات کے نام پر مُجھ سے رقم کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔

’آہستہ آہستہ اُن کے مطالبات اور رقم بڑھتے گئے اور انھوں نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا، یہ دھمکی دیتے ہوئے کہ میری نازیبا تصاویر وائرل کر دی جائیں گی۔ مبینہ طور پر عملیات کے نام پر رقم بٹورنے والا بعد میں ایک مرد نکلا۔‘

یہ کہانی انڈیا کے شہر احمد آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون تورل پٹیل (فرضی نام) کی ہے، جن کے ساتھ ایک مبینہ ’تانترک‘ یعنی عامل کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
یہ سارا معاملہ آخر تھا کیا اور تورل پٹیل کے ساتھ ہوا کیا اس بارے میں انھوں نے بی بی سی سے بات کی۔

انھوں نے کہا کہ ’کچھ عرصہ قبل جس شخص سے میں بے حد محبت کرتی تھی، اُس کے ساتھ میرا جھگڑا ہو گیا اور ہمارے درمیان رابطہ ختم ہوا اور بات چیت بند ہو گئی۔ میں اس سب کے بعد بہت دکھی تھی، اس لیے میں نے انسٹاگرام پر ایک ریل پوسٹ کی۔‘
’اسی رات مجھے انسٹاگرام پر ایک میسج یعنی پیغام ملا جس میں کہا گیا کہ ’ایسا لگتا ہے آپ محبت میں دھوکہ کھا بیھٹی ہیں اور دکھی ہیں۔ آپ کی مشکل کا تانترک رسومات سے مفت حل کیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس پیغام کے ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام کے کچھ لنکس بھی دیے گئے تھے۔ میں اس وقت مایوس تھی، اس لیے میں نے وہ لنکس کھول کر دیکھے۔ اس میں کئی لوگ اپنی مشکلات کے حل ہونے کے دعوے کر رہے تھے۔ میں نے سکرین پر دیے گئے نمبر پر فون کیا، تو انھوں نے مجھے کچھ منتر اور ایک خاص طریقہ بتایا۔ اسی دوران جس شخص کے ساتھ میری ناراضی تھی، اس کا پیغام آ گیا اور ہماری ایک دو ملاقاتیں بھی ہوئیں۔‘
تورل پٹیل نے مزید بتایا کہ ’بعد میں پھر پرانے معاملے پر اختلاف ہوا۔ میری ذہنی حالت بہت خراب تھی، اس لیے میں نے پہلے کی طرح دوبارہ اسی تانترک کو فون کیا۔ اس نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے آپ کو ایک خواجہ سرا ظاہر کر رکھا تھا، اس لیے مجھے لگا کہ میں دھوکے میں نہیں آؤں گی۔‘

’اس نے پہلے ایک رسم کروانے کے لیے تین ہزار روپے مانگے جو میں نے ادا کر دیے۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ پہلی رسم میں کچھ کمی رہ گئی تھی اس لیے ایک اور رسم کروانی ہوگی۔ وہ ویڈیو کال کے ذریعے مبینہ تانترک عمل کر کے دکھاتا تھا، جس سے میرا اعتماد بڑھتا گیا، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک دن رات کے وقت رسم ادا کرنی تھی اور اس دوران میں ماہواری کے ایام سے گزر رہی تھی۔ اس پر ’خواجہ سرا پوجاری‘ مجھ پر ناراض ہو گیا اور کہنے لگا کہ اب طہارت کی رسم یعنی پاکیزگی کی رسم کرنی پڑے گی۔ اس نے مجھے اس رسم کے نام پر کپڑے اتارنے کو کہا۔ ویڈیو کال کے دوران اس نے مجھے بتائے بغیر کچھ سکرین شاٹس لے لیے اور ویڈیوز بھی ریکارڈ کر لیں۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *