پاکستان

سرحدی جھڑپیں اور سفارتی جمود: پاکستان اور افغانستان کے تصادم کا مستقبل

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کی شب ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور پاکستان کی افغان شہروں میں فضائی کارروائیوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے “بلا اشتعال” حملوں کے جواب میں اس نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 133 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹے تک جاری لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، اور کچھ کی لاشیں افغانستان منتقل کر دی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، اب کھلی جنگ ہوگی۔”
انہوں نے ایکس پر مزید کہا کہ افغان طالبان “ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا کر رہے ہیں” اور “دہشتگردی کو ایکسپورٹ کر رہے ہیں”۔

افغان طالبان نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور جمعرات کی شب آٹھ بجے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

حالیہ صورتحال:

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے بعد دونوں طرف سے شدید دعوے سامنے آئے۔

الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سفارتی رابطے تقریباً منجمد ہیں۔

یہ کشیدگی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تصادم نہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود ہے بلکہ سفارتی اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *