سپورٹس

روزوں کے ساتھ میراتھون کی تیاری، برطانوی ایتھلیٹ کی منفرد جدوجہد

میراتھون کی تیاری ویسے ہی مشکل ہوتی ہے، لیکن روزہ رکھتے ہوئے دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کے خلاف 26.2 میل کی دوڑ کی تیاری کرنا اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔

محمد محمد اُن باصلاحیت برطانوی ایتھلیٹس میں شامل ہیں جو مو فرح کے برطانوی میراتھون ریکارڈ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

لیکن اس سال کے لندن میراتھون کی تیاری کے دوران 28 سالہ ایتھلیٹ محمد محمد رمضان کے روزوں اور سخت ٹریننگ میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ٹریننگ سیشن رات ایک بجے تک ختم ہوتے ہیں۔

برطانیہ کے بہترین رنرز کی فہرست میں چوتھے نمبر پر موجود محمد نے یہ مشورہ نظرانداز کیا کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے روزے موخر کر دیں۔ ان کا موجودہ ریکارڈ دو گھنٹے، سات منٹ اور پانچ سیکنڈ ہے۔

محمد پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ‘کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے ٹریننگ کے دوران روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ خاص طور پر اب، جب میرا مقابلہ قریب ہے۔’

‘وہ کہتے ہیں کہ پہلے ٹریننگ پر توجہ دوں اور بعد میں روزے رکھ لوں۔ لیکن میں اس کا عادی ہوں۔ یہ میری روٹین بن چکی ہے۔ میں اس مشورے کا شکر گزار ہوں، مگر میں بس اپنا کام کرتا رہتا ہوں۔’

محمد اس وقت مراکش کے اٹلس پہاڑوں میں واقع قصبے افرین میں مقیم ہیں جہاں وہ اپریل کی ریس کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ مقام انھیں رات کے وقت ٹریک پر فلڈ لائٹس کی روشنی میں محفوظ ٹریننگ کی سہولت دیتا ہے جہاں وہ دوسرے مسلمان ایتھلیٹس کے ساتھ ٹریننگ کر سکتے ہیں۔ دیگر ایتھلیٹس بھی رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں۔

محمد کے دن اکثر صبح کے ابتدائی اوقات تک طویل ہو جاتے ہیں۔ وہ پہلا سیشن شام 4 بجے کے قریب کرتے ہیں، پھر افطار کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے بعد دوسرا سیشن مکمل کرتے ہیں۔

جب وہ مناسب مقدار میں توانائی بحال کر لیتے ہیں تو ایک دو گھنٹے سو جاتے ہیں۔ پھر صبح 4 بجے کے قریب سحری کے لیے اٹھتے ہیں اور پھر دوبارہ آرام کرتے ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ‘یہ تھوڑا سخت ہے۔

‘میں اپنے کام کو سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ لیکن میرے لیے رمضان سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ میری توجہ مرکوز رکھتا ہے، مجھے یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ میں کون ہوں اور کیا کر سکتا ہوں۔’

محمد ان چار موجودہ برطانوی میراتھون رَنرز میں شامل ہیں جنھوں نے 2:08 سے کم وقت میں میراتھون مکمل کی۔ ان میں ٹرائیتھلیٹ ایلیکس یی، ایمل کیریس اور فلپ سیسمین شامل ہیں۔ ان ایتھلیٹس کو ‘نئے دور’ کی نسل قرار دیا جاتا ہے۔

2024 کے لندن میراتھون میں چوتھا مقام حاصل کرنے والے محمد اس سال لندن میں اپنا ریکارڈ توڑنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

اس کے بعد وہ اس گرمیوں میں برمنگھم میں یورپی چیمپیئن شپ کا تمغہ جیتنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *