اسلام آباد امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کا کردار اب متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس کے تعلقات میں تناؤ پیدا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اماراتی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی کارکنوں کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا ہے، جس سے پاکستان کے لیے بیرون ملک روزگار کا ایک اہم ذریعہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان نے امارات پر ہونے والے ایرانی حملوں کی کھل کر مذمت نہیں کی، جبکہ دوسری جانب اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں امارات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ابوظہبی کی ناراضی میں اضافہ ہوا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اخبار نے امارات میں کام کرنے والے 20 سے زائد پاکستانی شیعہ شہریوں سے بات کی، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہیں اچانک گرفتار کیا گیا، حراست میں رکھا گیا اور پھر ملک بدر کر دیا گیا۔ اسی طرح امارات میں کاروبار کرنے والے آٹھ افراد نے بھی بتایا کہ ان کے پاکستانی ملازمین کو حالیہ ہفتوں میں واپس بھیجا گیا ہے۔
پاکستانی شیعہ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپریل کے وسط سے اب تک ہزاروں پاکستانی شیعہ شہریوں کو امارات سے نکالا جا چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ شیعہ آباد ہیں، جن کے ایران کے ساتھ مذہبی اور روحانی روابط موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی ایک عرصے سے ایک حساس مسئلہ رہی ہے۔
