ماہرین کے مطابق کولیسٹرول کی زیادتی بغیر علامات کے دل کے دورے اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ہائی کولیسٹرول دل کی بیماریوں کا ایک ایسا خاموش خطرہ ہے جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں موجود رہ سکتا ہے۔ اکثر افراد کو اس وقت تک اس مرض کا علم نہیں ہوتا جب تک یہ دل، دماغ یا دیگر اہم اعضا کو متاثر نہ کر دے۔
کولیسٹرول دراصل ایک چکنائی نما مادہ ہے جو خون میں گردش کرتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ جسم خود جگر کے ذریعے بناتا ہے جبکہ باقی خوراک سے حاصل ہوتا ہے، خاص طور پر گوشت، مچھلی، انڈوں اور دودھ سے بنی اشیا سے۔
طبی ماہرین کے مطابق کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں۔
اچھا کولیسٹرول (HDL) جو خون سے اضافی کولیسٹرول صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔
برا کولیسٹرول (LDL) جو شریانوں میں جم کر انہیں تنگ اور سخت بنا سکتا ہے۔
جب ایل ڈی ایل کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو یہ شریانوں میں تہہ جما کر خون کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے جس سے دل کا دورہ، فالج اور دیگر دل کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہائی کولیسٹرول کی ابتدا میں کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن جب شریانیں زیادہ تنگ ہوجائیں تو سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری اور ٹانگوں میں درد جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے کے شکار افراد اور تمباکو نوشی کرنے والوں کو باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ کولیسٹرول کی سطح کا بروقت پتہ چل سکے۔
احتیاطی تدابیر میں متوازن غذا، چکنائی والی اشیا کا کم استعمال، فائبر سے بھرپور غذائیں، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا شامل ہے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی اور ہفتے میں تقریباً 150 منٹ ورزش کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت آگاہی اور صحت مند عادات اپنانے سے دل کے دورے اور دیگر خطرناک بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
