ماہرین کے مطابق ناکافی نیند انسولین کی مزاحمت اور موٹاپے کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے مناسب نیند انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس کی کمی بیماری کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
طبی ادارے ڈائیبیٹیز یو کے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 46 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جن میں سے 90 فیصد مریض ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ اس بیماری میں جسم مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کر پاتا یا اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرض کی بڑی وجوہات میں موٹاپا، بلند فشار خون اور غیر صحت مند طرزِ زندگی شامل ہیں، تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیند کی کمی بھی انسولین کی مزاحمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
طبی جریدے بی ایم جے اوپن ڈائیبیٹیز ریسرچ اینڈ کیئر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بیماری سے بچاؤ کے لیے ہر رات تقریباً 7 گھنٹے اور 18 منٹ نیند لینا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کے حوالے سے یونیورسٹی آف گلاسگو کے پروفیسر نوید ستار کا کہنا ہے کہ ناکافی یا خراب نیند انسان کے بھوک کو کنٹرول کرنے والے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ زیادہ کھانا کھاتے ہیں اور جاگنے کا زیادہ وقت ہونے کی وجہ سے خوراک کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق مناسب نیند، متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش نہ صرف ذیابیطس بلکہ دیگر کئی دائمی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
