اہم خبر

میر رضا کیس کی سابق تحقیقاتی افسر ایس پی عثمان سدوزئی کشمیر میں موجود، کراچی نہیں آئے: جبران ناصر

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میر رضا تقریباً 12 گھنٹے تک اغوا کاروں کے قبضے میں رہا اور اس دوران اسے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
جبران ناصر کے مطابق میر رضا پر ایسا تشدد کیا گیا کہ وہ بولنے کے قابل نہیں رہا، تاہم اسے سب کچھ محسوس ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رضا کے جسم کے اندر سے ملنے والے مواد کی بنیاد پر خدشہ ہے کہ وہ تیزاب بھی ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اسے تیزاب پلایا گیا ہو۔وکیل نے کہا کہ میر رضا شدید خوف زدہ تھا اور اغوا کاروں کی جانب سے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ رضا مبینہ طور پر کہتا رہا کہ ’’صبح تک تین کروڑ روپے دے دو، ورنہ میں سورج نہیں دیکھوں گا۔‘‘ جبران ناصر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میر رضا کو تیزاب میں نہلایا گیا۔
زمبابوے کی کریبا جھیل میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 15 ہلاک، 27 لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری
اسمارٹ واچ اہم ڈیجیٹل ثبوت ہے، جبران ناصر
جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے قتل کا کوئی عینی شاہد نہیں، تاہم مقتول اپنے پیچھے واحد اہم ڈیجیٹل فٹ پرنٹ اسمارٹ واچ کی صورت میں چھوڑ گیا، جو اس کے موبائل فون سے منسلک تھی۔انہوں نے کہا کہ میر رضا کے سوئم کے دن اسمارٹ واچ خاندان سے لی گئی۔ ایس ایس پی علی رضا نے خاندان کے سامنے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو فون کرکے کہا کہ کچھ پاس ورڈز مقتول کی بہن کے پاس ہیں، اس لیے گھڑی فراہم کی جائے تاکہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے اس کا فرانزک کرایا جا سکے۔
جبران ناصر کے مطابق ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ اسمارٹ واچ پہلے ہی ہمارے پاس ہے، تاہم اس کا کوئی میمو نہیں بنایا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ آٹھ روز سے ایس ایس پی ایس آئی یو اہم ترین ثبوت سمجھی جانے والی اسمارٹ واچ اپنی جیب میں لے کر گھوم رہے ہیں۔ جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ کیا اس طرح ثبوت ختم کیے جا رہے ہیں یا کسی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
جبران ناصر نے کہا کہ گیسٹ ہاؤس کی گلی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا ڈی وی آر بھی ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضل اپنی گاڑی میں لیے گھوم رہے ہیں، جبکہ میر رضا کا موبائل فون بھی سی ٹی ڈی حکام کے پاس موجود ہے۔
نئے صوبوں کی بحث نےحکمران جماعتوں کو یاد دلایا کہ ان کی بقا صرف حکومت میں رہنے سے نہیں، حبیب اکرم
پرانی تفتیشی ٹیم پر بھی سوالات
جبران ناصر کے مطابق پرانی تحقیقاتی ٹیم میں ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو، ایس ایس پی زبیر ندیم شیخ اور ایس پی عثمان سدوزئی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی زبیر ندیم شیخ کے خلاف سندھ ہائیکورٹ نے انکوائری کا حکم دیا ہے اور ان پر پانچ کروڑ روپے بھتہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جبران ناصر نے مزید کہا کہ ایس پی عثمان سدوزئی گزشتہ دو ہفتوں سے کشمیر میں موجود ہیں۔ ان کے بقول قتل سے دو ہفتے قبل ہی عثمان سدوزئی کو کشمیر بھیجا گیا تھا اور وہ اب تک کراچی واپس نہیں آئے۔وکیل نے سوال اٹھایا کہ ایسے افسر کو تفتیشی ٹیم میں کیوں شامل کیا گیا جو دو ہفتوں سے کراچی میں موجود ہی نہیں اور کشمیر میں بیٹھ کر میر رضا قتل کیس کی تفتیش کر رہا ہے۔
’میرے لوگوں کو قتل کرنا بند کرو‘سوڈانی شہری کا لندن میں دبئی کے حکمران کے سامنے احتجاج

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *