چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے آسٹریلیا میں اربوں ڈالر مالیت کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سینٹر کے قیام کے لیے معاہدہ کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی ڈیٹا سینٹر آپریٹر نیکسٹ ڈی سی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اوپن اے آئی کے ساتھ سڈنی میں اے آئی کیمپس اور گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے ’سپر کلسٹر‘ کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
نیکسٹ ڈی سی کے مطابق دونوں کمپنیاں مغربی سڈنی میں جدید اے آئی انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی، ترقی اور آپریشن کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گی۔ اس اعلان کے بعد کمپنی کے حصص میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران 4.1 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق تقریباً 7 ارب آسٹریلوی ڈالر (4.6 ارب امریکی ڈالر) مالیت کا یہ منصوبہ تعمیر کے دوران ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرے گا، جبکہ بعد ازاں ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور آپریشنز کے شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔
حکومت نے بتایا کہ اس منصوبے میں قابلِ تجدید توانائی کے نئے ذرائع کے لیے طویل مدتی پاور پرچیز ایگریمنٹس شامل ہوں گے اور اس میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس کے تحت ٹھنڈک کے نظام میں پینے کے پانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
آسٹریلیا کے خزانچی جم چالمرز کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آسٹریلیا کے پاس ٹیلنٹ، صاف توانائی کی صلاحیت اور مضبوط تجارتی شراکت داریاں موجود ہیں جو اسے اے آئی کے میدان میں نمایاں مقام دلا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی شراکت داریاں نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور معیشت میں اے آئی کے وسیع استعمال کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
