لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجاب یونیورسٹی کے ملازمین اور اساتذہ نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، چوہدری بشارت محمود نے کہا کہ ملازمین کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور واجب الادا رقوم ادا کی جائیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ پنجاب کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج میں پنجاب یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو اینڈ ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ملازمین سمیت اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاج سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان خان نیازی، آسا کے سینئر نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید، ڈاکٹر ابرار، پروفیسر ڈاکٹر کامران مرزا اور دیگر اساتذہ نے خطاب کیا۔
پنجاب یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو اینڈ ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر چوہدری بشارت محمود نے کہا کہ ملازمین گزشتہ ڈیڑھ سال سے پرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیئے جانے کے باعث اب عملی احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔
انہوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین روزانہ دو گھنٹے کالی پٹیاں باندھ کر دفاتر میں احتجاجاً کام نہیں کریں گے، جبکہ ہر بدھ کو ریلی کی شکل میں احتجاج کیا جائے گا۔چوہدری بشارت محمود نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو ملازمین نہر کا پل بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر اور گوجرانوالہ و جہلم کیمپس کے قریب جی ٹی روڈ پر بھی احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور واجب الادا رقوم ادا کی جائیں۔
پاکستان
پنجاب یونیورسٹی ملازمین کا مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
