لاہور: نامور مرحوم شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب معاشی حالات سے مجبور ہوکر گھر سے کھانا بنا کر ماڈل ٹاؤن بازار کے قریب ایک ریڑھی پر فروخت کرنے لگیں لیکن انہیں کام سے روک دیا گیا۔
جیو ڈیجیٹل سے رابطہ کرنے پر طاہرہ نے مزید بتایا کہ پہلے مینوسپل کارپورییشن کے افراد نے ان کے کام کو آکر سراہا بھی تھا۔لیکن پہلے ہی دن انہیں یہ کام کرنے سے روک دیا گیا۔
طاہرہ حبیب کے مطابق‘مینوسپل کے افراد نے کہا کہ آپ حبیب جالب کی بیٹی ہیں اور ریڑھی لگا کر مزدوری کررہی ہیں ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں ، میں نے انہیں جواب دیا کہ محنت میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہیئے میں نے تو اپنے باپ سے بھی یہ ہی سیکھا ہے‘۔
لیکن کچھ دیر بعد دوسرے کچھ افراد میری ریڑھی پر آئے اور میرے جاننے والے رکشہ ڈرائیور سے (جو اس وقت وہاں موجود تھا ) کہنے لگے کہ یہ سامان سمیٹو اور کہیں اور جاؤ۔
طاہرہ نے کہا کہ ان افراد نے خود کو میونسپل کارپوریشن کا عملہ ہی ظاہر کیا تھا۔شور ہونے پر جب میں ریڑھی پر پہنچی تو میں نے وجہ پوچھی ،جس پر مجھے جواب دیا گیا کہ آپ اپنا سامان اٹھا لیں اور یہ سب بند کریں ۔
طاہرہ نے کہا کہ میں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے یہ سامان تیار کیا تھا میں نے کس دل سے ریڑھی سمیٹی میں ہی جانتی ہوں ۔
پاکستان
حبیب جالب کی صاحبزادی کے ریڑھی لگانے کا معاملہ، وائرل ویڈیو کے باوجود پنجاب حکومت خاموش
