گوادر: ساحلی شہر پسنی کے وارڈ نمبر 9 میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے ایک رہائشی کوارٹر پر دستی بم پھینکے جانے سے دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد زخمی ہو گئے جبکہ مکان کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا۔
پولیس کے مطابق دھماکا گھر کے صحن میں ہوا جس کے بعد اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو فوری طور پر ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر متعدد زخموں کے باوجود خطرے سے باہر ہیں۔ زخمی افراد کا تعلق لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ سے ہے اور وہ گوادر میں مزدوری کی غرض سے مقیم تھے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم فروری کے آغاز میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی ’’آپریشن ردالفتن-1‘‘ شروع کیے جانے کے بعد عسکریت پسند حملوں میں کچھ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
3 مارچ کو ضلع بولان کے شہر ڈھاڈر میں نامعلوم افراد نے ایک سرکاری دفتر پر دستی بم حملہ کیا تھا۔
اس سے قبل 7 جنوری کو تربت میں محکمہ فشریز کے پارلیمانی سیکریٹری برکت رند اور دیگر سرکاری حکام ایک دستی بم حملے میں محفوظ رہے تھے جب ایک کھلی کچہری کے قریب دھماکا ہوا جس سے شرکا میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسی روز ضلع حب میں بھی ایک چیک پوسٹ کے قریب دستی بم حملے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا جبکہ جنوری کے آغاز میں سبی کے علاقے چنک چوک کے قریب دستی بم حملے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔
