اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات اور ملک میں خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے عارضی طور پر 60 دن کے لیے سی آئی ایف (CIF) بنیاد پر درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنا اور ممکنہ لاجسٹک یا انشورنس مسائل کے باعث تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کو روکنا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری سرکلر میں مجاز ڈیلرز اور کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کی شق 5 کے تحت درآمدات کے لیے مقررہ قابل قبول انکوٹرمز میں اس عارضی نرمی کا نوٹس لیں۔ سرکلر کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے اگلے 60 دن تک ہوگا، جس کے دوران درآمد کنندگان سی آئی ایف بنیاد پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرسکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس عارضی پالیسی سے متعلق اپنے صارفین اور درآمد کنندگان کو آگاہ کریں اور نئی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ فارن ایکسچینج مینوئل کے تحت عام طور پر بعض شرائط کے ساتھ ای ایکس ورکس بنیاد پر بھی درآمدات کی اجازت ہوتی ہے، جس میں درآمدی ادائیگی شپنگ دستاویزات درآمد کنندہ کے بینک میں پیش کیے جانے پر کی جاتی ہے جبکہ انشورنس کا انتظام درآمد کنندہ کو سپلائر کے گودام سے کرنا پڑتا ہے۔
حکام کے مطابق فارن ایکسچینج مینوئل میں درج انکوٹرمز کے علاوہ کسی اور بنیاد پر درآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن کے فارن ایکسچینج آپریشنز ڈپارٹمنٹ سے پیشگی منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آئی ایف بنیاد پر درآمدات کی یہ عارضی اجازت پاکستانی تیل درآمد کنندگان کو موجودہ عالمی کشیدگی کے دوران لاجسٹکس اور انشورنس سے متعلق خطرات کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں مدد دے گی، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
