اہم خبرپاکستان

بنیادی حقوق متاثر کرنے والی سرگرمی آئین کے خلاف ہوگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد :اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر 2026 کے مجوزہ لانگ مارچ سے متعلق دائر آئینی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم بنچ نے فیصلہ سنایا کہ کسی بھی سیاسی جماعت، قائد یا سرکاری عہدیدار کو شاہراہیں، انٹرچینج یا عوامی راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جس سے شہریوں کی آمدورفت یا کاروباری امور متاثر ہوں۔ 37 صفحات مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس سرفرازڈوگرنے تحریر کیاہے۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں بشمول وزرائے اعلیٰ کو حکم دیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف جانے والے کسی بھی مارچ کے لیے سرکاری وسائل، فنڈز، گاڑیوں یا اہلکاروں کو استعمال نہ کیا جائے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو احتجاج میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکماتی کارروائی کی جائے گی۔ ?عدالت نے وفاقی و صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کریں تاکہ غیر قانونی دباو¿ ڈالے جانے کی صورت میں سرکاری ملازمین رپورٹ کر سکیں۔ نیز بنیادی حقوق یا آئین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص یا عہدیدار کے خلاف قانون کے مطابق سخت قدم اٹھایا جائے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ 2022 اور 2024 کے احتجاجی مناظر تشدد اور جارحیت کے عکاس تھے، جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں سنگین سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی۔ ماضی کے مارچ میں خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے اور مسلح افراد صوبائی پولیس کی معیت میں اسلام آباد کی طرف بڑھے۔ ان صوبائی وسائل اور پولیس کی موجودگی نے اسلام آباد انتظامیہ کے لیے صورتحال پر قابو پانا انتہائی مشکل بنا دیا۔ اس قسم کے مظاہروں میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا، تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار اور شہری زندگی شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے مارچ کے نتیجے میں اسلام آباد کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں رہتا، اور کسی بھی صوبائی اکائی کی وفاق کے خلاف مارچ، ریلی یا جلوس کی صورت میں جارحیت مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ لہٰذا، ایسے غیر قانونی مارچ یا ریلی کو منظم کرنے، اس میں شریک ہونے یا اس کی تشہیر کرنے والوں کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد پر سیاسی دباو¿ ڈالنے کے لیے شہری زندگی، کاروبار، تعلیم اور نقل و حرکت متاثر کرنا کسی صورت حقِ احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے آئینی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے اور لانگ مارچ کا حق قانون کے تابع ہے، مگر مسلح یا سرکاری وسائل سے چلنے والے مارچ کو آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ احتجاج کو تشدد، اسلحہ، سڑکوں کی بندش یا دوسرے شہریوں کے حقوق کی پامالی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ یا شہری حقوق کی معطلی کوئی آئینی حق ہے۔ عوامی شاہراہیں سیاسی دباو¿ یا مستقل دھرنے کے لیے نہیں بلکہ تمام شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے ہیں۔ اسی بنا پر کسی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی طرف جانے والی شاہراہیں، انٹرچینجز یا عوامی مقامات بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں، اور نہ ہی اسلام آباد کی طرف کسی بھی سیاسی مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری یا سرکاری اہلکار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ مقدمہ اسلام آباد کے ایک مقامی تاجر کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں 27 ستمبر 2026 کو پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے مجوزہ لانگ مارچ کی وجہ سے شاہراہوں کی بندش، کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے اور شہریوں کے آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق (آرٹیکل 9, 14, 15, 18, 23, 24, 25) متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ آئین شہریوں کو امن پسندانہ احتجاج کا حق دیتا ہے، لیکن یہ حق لامحدود نہیں بلکہ قانون اور پبلک آرڈر کی معقول پابندیوں کے تابع ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے (فیض آباد دھرنا کیس – PLD 2019 SC 318) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بلاک کرنے یا دھرنوں میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے عام شہریوں کے حقوق شدید متاثر ہوتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199(1)(c) کے تحت اگر کسی بھی صوبائی اقدام سے وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کے حقوق پر اثر پڑے تو عدالت کو احکامات جاری کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ریٹ پٹیشن کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے حتمی احکامات اور ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت، قائد یا سرکاری عہدیدار کو شاہراہیں، انٹرچینج، موٹرویز، ٹول پلازہ یا عمارتیں بند کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ یا ریلیوں کے لیے کسی بھی قسم کے سرکاری فنڈز، گاڑیوں، مشینری یا سرکاری اہلکاروں کا استعمال روکیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو سیاسی احتجاج میں شرکت کے لیے مجبور ?ا لالچ نہیں دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں صوبائی چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور وفاقی انتظامیہ کو ایک خصوصی ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زبردستی کا شکار ہونے والے ملازمین فوری شکایت درج کرا سکیں۔ غیر قانونی احکامات ماننے یا احتجاج میں سہولت کاری کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کے خلاف سخت محکماتی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد یا عہدیدار کے خلاف قانونی نتائج کے تحت اقدام کیا جائے گا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *