اسلام آباد(:وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی واصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انتشار سے معاشی ترقی کا سفر متاثر ہوتا ہے، پی ٹی آئی کا ایک چھوٹا گروہ سڑکوں پر دینگا مشتی کرنا چاہتا ہے،اسلام آباد کو سومنات بنانے کی سازش قوم مسترد کردے گی، پی ٹی آئی کے انتشاری ٹولے کی سیاست ہی سومنات بنے گی، بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سیاسی نہیں بلکہ کرپشن کے ہیں،پی ٹی آئی کے ارکان اور کارکن کا فرض ہے کہ بانی سے کرپشن کا سوال کریں،تیل کی قیمتیں کم ہونے سے مہنگائی کا بحران بھی ختم ہو گا، اس مہنگائی کا تعلق حکومت کے ساتھ نہیں پوری دنیا بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں سے پریشان ہے۔کا ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے مہنگائی کا بحران بھی ختم ہو گا، اس مہنگائی کا تعلق حکومت کے ساتھ نہیں پوری دنیا بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں سے پریشان ہے،ہمارے معاشی اعشاریہ گزشتہ چار سالوں میں بہترین ہو گئے ہیں۔ بین قومی سطح پر پاکستان کو کامیابی ملی، سفارتی معاملوں میں پاکستان کو کامیابی ملی، اب ان حالات میں ہمیں اپنے معاشی اشاریوں کو بہتر کرنا ہے یا سڑکوں پر فساد پربا کر کے سرمایہ داروں کو ایک دفعہ پھر بھگانا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنی عالمی کامیابیوں کو داخلی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہو گا کہ کہیں وہ دشمنوں کے آلہ کار تو نہیں بن رہے، مسلم لیگ ن نے اپنے مقدمے قومی اسمبلی کے اندر اور عدالتوں میں لڑے اور کھبی پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں کی، پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انتشار سے معاشی ترقی کا سفر متاثر ہوتا ہے، پی ٹی آئی کا ایک چھوٹا گروہ سڑکوں پر دینگا مشتی کرنا چاہتا ہے،اسلام آباد کو سومنات بنانے کی سازش قوم مسترد کردے گی، پی ٹی آئی کے انتشاری ٹولے کی سیاست ہی سومنات بنے گی، بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات سیاسی نہیں بلکہ کرپشن کے ہیں،پی ٹی آئی کے ارکان اور کارکن کا فرض ہے کہ بانی سے کرپشن کا سوال کریں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ شفاف، شواہد پر مبنی اور جوابدہ طرز حکمرانی کے عزم کا مظہر ہے، گزشتہ ڈھائی برس میں حکومت نے معاشی اعتماد کی بحالی اور معیشت کی بنیادیں مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی، حکومت کی معاشی پالیسیوں سے حاصل ہونے والی پیش رفت پاکستان کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری اور عوام کے لیے نئے مواقع کی جانب لے جا رہی ہے، ہماری معاشی حکمت عملی کا مرکز عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے، پاکستان کو زیادہ پیداواری اور برآمدات پر مبنی معیشت بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت سرمایہ کاری کے فروغ اور وسیع تر ترقیاتی ایجنڈے کے ذریعے پاکستان کو پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی سمت لے جایا جا رہا ہے، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پیش رفت کی مو¿ثر نگرانی کے لیے شفافیت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی ضروری ہے، مہنگائی میں کمی اور قیمتوں کا استحکام حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، قیمتوں کا استحکام براہ راست عوام کے گھریلو بجٹ اور قوت خرید کو متاثر کرتا ہے، حکومت ضروری اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کے دباو¿ کو کم کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے، معاشی ترقی کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جولائی اور اگست 2026 میں اوسط افراط زر 10.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ اگست 2026 میں ماہانہ افراط زر 11.1 فیصد رہا جبکہ جولائی میں یہ شرح 9.2 فیصد تھی، اگست میں اشیائے خورونوش اور غیر الکوحل مشروبات کی قیمتوں میں 13.9 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا،قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے قیمتوں میں اضافے کے دباو¿ سے نمٹنے کے لیے ہدفی اقدامات کیے جا رہے ہیں،ضروری اشیاءکی قیمتوں میں تھوک اور پرچون کے درمیان بلاجواز فرق ختم کرنے اور مو¿ثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ایل پی جی کی مقررہ اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے درمیان فرق کا بھی نوٹس لیا گیا ہے، متعلقہ اداروں کو ایل پی جی کی قیمتوں میں پائے جانے والے فرق کے ازالے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے، پاکستان کے صنعتی شعبے میں پیداوار کی رفتار میں بہتری آ رہی ہے، جولائی 2026 میں لارج سکیل مینوفکچرز میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا،جون 2026 کے مقابلے میں جولائی میں لارج سکیل مینوفکچرز میں 9.5 فیصد نمایاں اضافہ ہوا، نئے مالی سال کے آغاز پر صنعتی سرگرمیوں میں بہتری معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے، نئے صنعتی شعبوں کی پیداوار میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، آٹو موبائلز، ٹرانسپورٹ آلات، تمباکو، ملبوسات، برقی آلات اور نان میٹالک منرل مصنوعات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، آٹو موبائلز کی پیداوار میں 57.01 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات میں 40.22 فیصد اور تمباکو کی پیداوار میں 35.82 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، ملبوسات کی پیداوار میں 22.03 فیصد، برقی آلات میں 7.88 فیصد اور نان میٹالک منرل مصنوعات میں 4.25 فیصد اضافہ ہوا۔ احسن اقبال نے کہا کہ صنعتی پیداوار میں بہتری پاکستان کے صنعتی بنیاد کے مضبوط ہونے کی علامت ہے، روایتی برآمدی شعبوں کی بحالی اور انہیں مزید مسابقتی بنانا ضروری ہے، پاکستان نے نئے مالی سال میں اپنی بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن میں زیادہ اعتماد کے ساتھ آغاز کیا ہے، جولائی اور اگست 2026 میں پاکستان کی اشیاء کی برآمدات 5.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جولائی اور اگست 2026 میں اشیاءاور خدمات کی مجموعی برآمدات 7.3 ارب ڈالر رہیں، اشیاءاور خدمات کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے 6.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان کی معیشت نے اپنی پیداواری صلاحیت کے ذریعے زرمبادلہ کمانا شروع کر دیا ہے، برآمدات میں بہتری کا دائرہ وسیع ہے اور یہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں، غذائی اشیاءکی برآمدات میں 9.3 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 42 فیصد اور چمڑے کی مصنوعات میں 12.8 فیصد اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 3 فیصد جبکہ سرجیکل مصنوعات کی برآمدات میں 10.2 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، برآمدات میں بہتری معیشت کے مختلف پیداواری شعبوں کی مجموعی کارکردگی کا نتیجہ ہے، پاکستان کی بیرونی آمدنی کے ڈھانچے میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے، خدمات کی برآمدات میں 29 فیصد اضافہ پاکستان کی معیشت میں نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، جولائی اور اگست 2026 میں آئی سی ٹی برآمدات 811 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 691 ملین ڈالر تھیں، پاکستان کی برآمدات بتدریج روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل ہو رہی ہیں، برآمدات میں اضافے کے باوجود جولائی اور اگست 2026 میں کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 543 ملین ڈالر رہا، گزشتہ سال 853 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کے مقابلے میں رواں سال 310 ملین ڈالر یعنی 36 فیصد بہتری آئی، حکومت اب معاشی استحکام کو بلند اور پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، برآمدات کی بنیاد کو وسیع کرنا اور مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن بڑھانا حکومت کی ترجیح ہے، ٹیکنالوجی اور خدمات کی برآمدات کو وسعت دے کر پاکستان کے لیے زرمبادلہ کمانے کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر 7.3 ارب ڈالر رہیں، گزشتہ سال کی اسی مدت میں 6.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کے بیرونی استحکام کا ایک اہم ستون ہیں، جولائی اور اگست 2026 میں خلیجی ممالک پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہے، سعودی عرب سے 873 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 750 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، برطانیہ سے 564 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 309 ملین ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، مختلف خطوں سے ترسیلات زر کا حصول پاکستان کی بیرونی آمدنی کی بنیاد کی مضبوطی اور پائیداری کو ظاہر کرتا ہے، رواں مالی سال کے آغاز پر پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار میں بہتری آئی ہے، اگست 2026 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 77 فیصد اضافے کے ساتھ 316 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جولائی میں نیٹ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 179 ملین ڈالر تھی، جولائی اور اگست 2026 میں مجموعی نیٹ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 494 ملین ڈالر رہی، گزشتہ سال کی اسی مدت کے 399 ملین ڈالر کے مقابلے میں رواں سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 24 فیصد اضافہ ہوا
اہم خبرپاکستان
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، احسن اقبال
