ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والی درد کش ادویات کا زیادہ اور طویل استعمال گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ درد سے فوری نجات کے لیے اینٹی انفلیمیٹری ادویات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گردوں کی صحت سے متعلق کام کرنے والے اداروں کے مطابق درد کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نان اسٹرائیڈل اینٹی انفلیمیٹری ادویات، جیسے آئبوپروفین، نیپروکسین اور ڈائیکلوفیناک، اگر زیادہ مقدار میں یا مسلسل استعمال کی جائیں تو یہ گردوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ یہ ادویات گردوں تک خون کے بہاؤ کو کم کر دیتی ہیں یا گردوں کے بافتوں کو متاثر کر سکتی ہیں جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ افراد جو پہلے ہی گردوں کے مسائل کا شکار ہیں یا جنہیں شوگر اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں لاحق ہیں، انہیں خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ان میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم صحت مند افراد بھی اگر درد کش ادویات کو ضرورت سے زیادہ اور طویل مدت تک استعمال کریں تو یہ ان کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ ادویات بلڈ پریشر میں اضافہ کر سکتی ہیں اور گردوں کے اندر موجود باریک خون کی نالیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں گردوں کی مجموعی کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ درد کش ادویات کا استعمال ہمیشہ احتیاط اور ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ادویات بیماریوں کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن غلط یا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
