کوئٹہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 3 ماہ کے دوران کھلی کچہریوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے متعلق شکایات ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں جو حکومت کی بہتر مانیٹرنگ اور موثر گورننس کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ تعلیم اور صحت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری خوش آئند ہے اور اس سے عوام کاحکومتی اقدامات پر اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی غیر حاضری سے متعلق عوامی شکایات سامنے آئیں تاہم مربوط حکمت عملی، سخت نگرانی اور بروقت شنوائی کے باعث اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے ،اداروں میں حاضری کو یقینی بنایا جا چکا ہے اور سروس ڈلیوری میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران بلوچستان کے 36 اضلاع میں مجموعی طور پر 412 کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں 3675 شکایات موصول ہوئیں ان شکایات کی بڑی تعداد تعلیم اور صحت کے اداروں کی بندش اور عملے کی غیر حاضری سے متعلق تھی تاہم رواں سال مارچ میں موصول ہونے والی 871 شکایات میں سے صرف چار شکایات غیر حاضری سے متعلق تھیں جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اصلاحاتی اقدامات موثر ثابت ہو رہے ہیں۔
وزیر اعلی بلوچستان نے اصلاحاتی ایجنڈے پر موثر عملدرآمد اور گورننس کی بہتری کے لیے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیکرٹریز کمیٹی اور ڈویژنل و ضلعی انتظامی سربراہان کے اجلاسوں کا تسلسل سے انعقاد گڈ گورننس کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں گڈ گورننس اور شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ صوبے کا ہر سکول اور ہسپتال فعال کرکے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
