واشنگٹن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’ایران اس وقت خلیج فارس میں جو کر رہا ہے‘ اسے روکنے میں چین فعال کردار ادا کرے۔
بی بی سی اردو کے مطابق وزیر خارجہ نے صدارتی طیارے ایئر فورس ون سے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیا۔انٹرویو میں انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ چین کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کر لیں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عام طور پر اس آبی راستے سے گزرتا ہے۔ اس بندش کا نتیجہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی صورت میں نکلا، جبکہ اس راستے سے ہونے والی دیگر مصنوعات کی تجارت بھی متاثر ہوئی۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ امریکہ نے چین کو قائل کرنے کے لیے تین دلائل پیش کیے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین کو ایک دلیل یہ دی گئی ہے کہ خود چین کے جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں پھنسے ہیں، دوسری دلیل یہ ہے کہ چین خود اس توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق چین کو تیسری دلیل یہ دی گئی کہ اس کی معیشت برآمدات پر انحصار کرتی ہے اور آبنائے ہرمز پر بحران کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں۔ جب چینی مصنوعات خریدنے والے ممالک کی معیشتیں تباہ ہوں گی تو وہ ممالک اپنی خریداری کم کر دیں گے اور ’چین کی برآمدات بھی کم ہو جائیں گی۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا: ’اس تنازع کا حل ہونا چین کے اپنے مفاد میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ دلائل ہم نے چین کو پیش کر دیے ہیں اور امید ہے کہ یہ دلائل مضبوط ہیں۔‘
