مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کے خدشات بڑھنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو مزید اضافہ ہوا، ایران کی جانب سے امریکی حملوں کا جواب دینے کی دھمکی نے خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 34 سینٹ یا 0.35 فیصد اضافے کے بعد 97.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.15 ڈالر یا 1.26 فیصد اضافے سے 92.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا،اماراتی مربن خام تیل کی 3.36 فیصد اضافے سے 106.8 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔ گزشتہ روز برینٹ کی قیمت 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاجروں کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتے خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافی رسک پریمیم شامل کیا جا رہا ہے، آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ایران نے پیر کے روز خبردار کیا کہ خلیجی خطے میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بشمول امریکی تیل و گیس کے مفادات، خطرے میں ہیں، یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہفتے کے اختتام پر امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور سفارتی پیش رفت کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ہفتے کو امریکی افواج نے ایران کے تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک ایران کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارک جزیرے کے قریب تھا،اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود امریکی جنگی بحری جہازوں پر حملے کیے تھے۔ اے این زیڈ کے تجزیہ کار ڈینیئل ہائنز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے امریکا اور ایران کے درمیان طویل تعطل اور محدود فوجی کارروائیوں کے امکانات بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں 2026 کے اختتام تک خلیج فارس سے تیل کی سپلائی محدود رہ سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے کی سطح پر تیل کی ترسیل مکمل طور پر بحال ہونے میں 2027 کی پہلی سہ ماہی کے آخر یا دوسری سہ ماہی کے آغاز تک وقت لگ سکتا ہے۔
انٹرنیشنلکاروبار
