کوئٹہ : سینئر سیاستدان نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اٹھارویں ترمیم اور 1973ءکا آئین قبول نہیں ہائبرڈ نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اس لئے عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر بلوچستان میں نیا کھیل کھیلنے کے لئے میدان سجا رہی ہے اور نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ کر اپنے من پسند نئے لوگوں کو لاکر لوٹ مار کے ذریعے وسائل پر قبضہ کرسکیں اس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں بلوچستان کے حالات اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک لوگوں کے ووٹ کے ذریعے صاف اور شفاف انتخاب اور احتساب نہیں ہوتا اسلام میں بھی درختوں کی کٹائی منع اس کے باوجود جعلی حکمران لوگوں کے باغات کاٹ کر حالات کو خرابی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سینئر صحافیوں حاجی خیل الرحمن اور موسیٰ فرمان سمیت دیگر کی فاتحہ خوانی کے دوران کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید، بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر منظور احمد رند سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ اس وقت ملک اور بلوچستان بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے جس کی بنیادی وجہ ہائبرڈ نظام جو مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح نظام کو کنٹرول کرکے صوبے میں اپنی مرضی کے نمائندے مسلط کئے جس کی وجہ سے حالات اس نہج تک جا پہنچے صوبے بنانا اصل مسائل اور حقائق سے توجہ ہٹا کر مصنوعی قیادت کو صوبے پر مسلط کرنا ہے جبکہ صوبے میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر موجود ہیں ان کے ذریعے گورننس کو بہتر بنایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ صوبے میں مزید انارکی پھیلانے کے لئے بحران پیدا کئے جارہے ہیں جس کی بڑی وجہ ریاست کے پیدا کردہ مصنوعی ریاستی نمائندے ہیں جو اس وقت عوام پر مسلط ہے جو ڈلیور نہیں کر پارہے بلوچستان کے حالات اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتے جب تک یہاں پر بسنے والے لوگوں کے ووٹ کے ذریعے صاف اور شفاف انتخاب اور احتساب نہیں ہوتا کیونکہ اقتدار میں آنے والے اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہےں ہمیں پہلے بھی مسلط کردہ لوگوں نکالنے کے لئے 20 سے 25 سال لگے اس لئے ہمیں اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان کی بہتری اور وسائل پر دسترس کے لئے اقدام کرنا ہوگا ماضی میں بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ اور قوتوں نے افغانستان کو جواز بناکر بلوچستان اور پاکستان میں حالات خراب کئے جس میں سیاسی جماعتوں نے سہولت کاری دی چارٹ آف ڈیمو کریسی میں طے پایا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سہولت کاری فراہم نہیںکرے گی لیکن سہولت کاری کی گئی جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے سے ہٹ کر کام کیا اور ایک بار پھر اسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر سمجھوتہ کرکے نئے چہروں اور بوٹ پالش کرنے والوں کو لوٹ مار کے لئے مسلط کرنے کے لئے راستہ ہموار کیا جارہا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہوئے مزاحمت کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اٹھارویں ترمیم کی منظوری اور 1973ءکی آئین کی مکمل بحالی قبول نہیں تھی اس لئے مختلف حیلے بہانے کئے گئے کیونکہ ضیاءالحق کے دور میں 58 ٹو بی کے تحت پارلیمنٹ کو ختم کرنا اور انتخابات کرانا صدر کے اختیار میں تھا اور یہ اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہورہے تھے اس لئے اب بھی اسٹیبلشمنٹ کو اٹھارویں ترمیم اور 1973ءکا آئین قبول نہیں اور اس کی تبدیلی کے شوشے چھوڑ کر سازشیں اور کوششیں کی جارہی ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے قدرتی وسائل پر قابو پانے کی کوششیں ہورہی ہے اور نئے نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں جس طرح 26 ویں ترمیم میں سیاسی جماعتوں نے اپنے اختیارات کم کرکے اسٹیبلشمنٹ کو سہارا دیا ہے اور اپنے اختیارات ختم کئے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اسٹیبلشمنٹ کا مسلط کردہ ہے جو سرینا ہوٹل پروجیکٹ کا حصہ ہے اس لئے وہ بلوچستان میں حالات کو خراب کرنے کے لئے ایسے اقدامات کرتے ہوئے مستونگ، کھڈکوچہ سمیت دیگر علاقوں میں درختوں اور باغات کو کاٹ رہے ہیں حالانکہ اسلام میں بھی درختوں کی بلا جواز کٹائی منع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قومی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کمیشن کے ذریعے بلوچستان کے حالات پر نظر رکھے بلوچستان کے علاقوں مکران ڈویژن، جھالاوان ، ہنہ اوڑک منگل سے لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ سوات سے 20 لاکھ لوگوں کو نکال کر آپریشن کیا گیا اور آج تک وہاں امن قائم نہیں ہوا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمان میں ہے اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی ان کے پاس ہے انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی انسانی حقوق کی کمیٹیوں کے ذریعے جیلوں کا دورہ کرتے ہوئے تمام قیدیوں یا عمران خان کے حوالے سے حالات کا جائزہ لیکر رپورٹ مرتب کرکے منظر عام پر لانے چاہئے اپنے گھر پر ڈرون حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہمیں قومی نمائندگی سے ہٹانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے لیکن ہم اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے یہ حملہ پلان کا نتیجہ تھا تاکہ لوگوں سے علاقوں کو خالی کرایا جائے اور 1983ءسے سندھ سے لائے گئے لوگوں کو کسی تنظیم کے نام پر حوالے کرکے کہا جائے کہ وہاں پر ان کا قبضہ ہے ہم ایسی ریاستی پالیسی اور اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مزاحمت بھی کریں گے۔
اہم خبربلوچستان
ہائبرڈ نظام ناکام، بلوچستان میں شفاف انتخابات اور احتساب ناگزیر ہے،نوابزادہ لشکری رئیسانی
