کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی زیر صدارت لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز کے 9ویں سینیٹ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں مذکورہ یونیورسٹی کی حاصل کردہ نمایاں کامیابیوں، تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں، انتظامی امور اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی ظہور احمد بلیدی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک ترین، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، پارلیمانی سیکرٹری زرین مگسی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، پرووائس چانسلر ڈاکٹر الہی بخش، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری اور رجسٹرار ڈاکٹر بالاچ بلوچ سمیت سینیٹ کے تمام اراکین نے شرکت کی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کیلئے باعثِ فخر ہے کہ گزشتہ دو برس کے مختصر عرصے میں بلوچستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کو تبدیل کرکے ایک قابلِ ستائش اور امید افزا تصویر پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر اینڈ میرین سائنسز اس مثبت تبدیلی کی ایک روشن مثال ہے۔ جامعہ نے اپنی کارکردگی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ 41 فیصد سے بڑھا کر 85.32 فیصد تک پہنچانا اور ایک سال میں 86 ملین کی بچت کر کے نہ صرف نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک نئی تاریخ بھی رقم کی ہے جس کیلئے وائس چانسلر ڈاکٹر عبد المالک ترین اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ یہ کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ وژنری قیادت، میرٹ کی پاسداری، مالیاتی شفافیت اور ادارہ جاتی ڈسپلن کے ذریعے محدود وسائل میں بھی بڑے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کی 177 ریسرچ پبلیکشنز اس کے علمی و تحقیقی سفر میں ایک اہم پیش رفت ہیں جبکہ قیام سے اب تک 5 ہزار گریجویٹس کی تیاری بھی یونیورسٹی کی ایک قابلِ فخر قومی خدمت ہے۔ یہی نوجوان مستقبل میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی معیشت، سمندری وسائل، ماحولیات، لائیو اسٹاک، آبی شعبے اور دیگر متعلقہ شعبوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی کا محلِ وقوع اسے پاکستان کی بلیو اکانومی، سمندری علوم، فشریز، میرین بائیو ڈائیورسٹی، کوسٹل اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے ایک منفرد علمی مرکز بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی ترجیحات کو بلوچستان کی زراعت اور آبی وسائل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نوجوانوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی معیشتیں صرف روایتی وسائل پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ علم، تحقیق، ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور افرادی قوت کو ترقی کا بنیادی محرک سمجھتی ہیں۔ بلوچستان کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بھی اس گلوبل چینج کا حصہ بننا ہوگا تاکہ ہمارے نوجوان روزگار کے متلاشی ہی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔ گورنر مندوخیل نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یونیورسٹیوں میں تحقیق کو صرف تحقیقی مقالوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے صنعت، زراعت، فشریز، آبی وسائل، ماحولیات اور لوکل اکانومی کے عملی مسائل کے حل سے جوڑا جائے۔ کسی بھی یونیورسٹی کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف رینکنگ نہیں بلکہ کوالٹی ایجوکیشن، سائنٹفک ریسرچ اور معاشرے کو درپیش مسائل کا سائنسی حل پیشِ کرنا ہے۔ لسبیلہ یونیورسٹی کے 9ویں سینیٹ اجلاس کے دوران یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی کارکردگی، مالی امور، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔ سینیٹ کے شرکاءاور اراکین کی تجاویز، سفارشات اور باہمی مشاورت کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اہم خبربلوچستان
لسبیلہ یونیورسٹی تعلیمی ترجیحات زراعت، آبی وسائل سے ہم آہنگ کرے ,گورنر بلوچستان
