نیو یارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران شام میں قومی استحکام کی جانب ہونے والی پیش رفت کا کھل کر خیرمقدم کیا ہے اور ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ شام نے ”بہت مختصر عرصے میں ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے“ اور اب یہ ملک ایک گہری تبدیلی کے مرحلے سے گزر کر بتدریج قومی استحکام کے عمل کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے شامی حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے شمال مشرقی شام میں شامی جمہوری افواج اور دیگر اداروں کو ریاستی ڈھانچوں میں ضم کرنے کے عمل کو اتحاد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ پاکستانی مندوب نے شام کو درپیش سنگین اقتصادی اور انسانی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک اور یورپی یونین سمیت برادر ممالک کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری شامی عوام کے لیے روزگار اور معاش کے ذرائع کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف مو¿ثر جنگ کے لیے شام کو بین الاقوامی تعاون اور استعدادِ کار بڑھانے میں بھرپور معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔سفیر عثمان جدون نے شام کی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل فوجی سرگرمیوں، جبلِ حرمون کے علاقے میں اعلیٰ سطحی حکام کی حالیہ دراندازیوں اور مقبوضہ شامی علاقوں پر قبضے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل 1974 کے معاہدے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرتے ہوئے شام کے مقبوضہ علاقوں سے اپنی افواج فوری طور پر واپس بلائے۔خطبے کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں شامی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک پ±رامن، متحد، خودمختار اور خوشحال شام کی تشکیل کے لیے تمام کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
انٹرنیشنلاہم خبرپاکستان
سلامتی کونسل میں پاکستان کا شام میں قومی استحکام کی پیش رفت کا خیرمقدم
