کوئٹہ:بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کوئٹہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں، خواتین وکلاءکے لیے پنک اسکوٹیز، لوکل بس اسٹینڈ، خستہ حال بسوں اور شہریوں کو درپیش سفری مسائل سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ صوبائی محکموں کو متعدد اہم ہدایات جاری کردیں۔سماعت کے دوران درخواست گزاران کی جانب سے شرمین رحمان اور انعم خیر ایڈووکیٹس، جبکہ درخواست گزاروں/مداخلت کاروں کی جانب سے علی احمد کرد، محمد عثمان یوسفزئی، بی کے مروت اور عبدالجبار بگٹی ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔ محمد فرید ڈوگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ظہور بلوچ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ، سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ نعمت ترین، پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو محمد صابر، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر سلمان خان ترین، ایم سی کیو کے وکیل اظہار الحق ترین، کیو ڈی اے کے وکیل محمد اکرم شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر اربن پلاننگ و ڈویلپمنٹ کلیم اللہ، چیف آف سیکشن پی اینڈ ڈی شکیل احمد اور ڈی ایس جوڈیشل محمد اختر بھی عدالت میں موجود تھے۔الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ اسکیم پر ایک ہفتے میں پیش رفت کی ہدایت۔عدالت کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر متعارف کرانے اور موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی اسکیم پر نظرثانی کی گئی ہے، جس کی مجموعی لاگت 595.720 ملین روپے ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکیم میں 37 ای وی اسٹاپس، الیکٹرک وہیکل چارجرز، 300 کلوواٹ کا سولر پاور سسٹم اور 16 رکشہ اسٹینڈز شامل ہیں۔ نظرثانی شدہ پی سی ون محکمہ پی اینڈ ڈی کو بھیجا جا چکا ہے اور منصوبے کی منظوری کے لیے اسے پی ڈی ڈبلیو پی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جانا ہے۔محکمہ پی اینڈ ڈی کے چیف آف سیکشن نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی تجویز پر بعض مشاہدات سامنے آئے تھے اور ان کے جواب کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کو خط ارسال کیا گیا ہے۔ اس پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مشاہدات کا جواب ترجیحی بنیادوں پر دیا جائے گا۔عدالت نے اے سی ایس ڈویلپمنٹ، محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سے جواب موصول ہوتے ہی منصوبے کو آئندہ پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پیش کیا جائے اور آئندہ سماعت تک پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔خواتین وکلاءکے لیے پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا عمل تیز کرنے کا حکم عدالت کو بتایا گیا کہ خواتین وکلاءکے لیے پنک اسکوٹیز، وکلاء کے لیے شٹل کارٹس، بسیں اور کچلاک و سریاب سے وکلائ کی آمدورفت کے لیے پنک وینز کی فراہمی پر مشتمل اسکیم پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکیم میں 100 الیکٹرک پنک اسکوٹیز، دو الیکٹرک شٹل کارٹس، دو 9 میٹر ڈیزل بسیں، دو پنک وینز اور تین پورٹس پر مشتمل چارجنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ 100 الیکٹرک پنک اسکوٹیز کی خریداری پر 21.5 ملین روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ دو بسوں کی خریداری کے سلسلے میں متعلقہ کمپنی کو 8.50 ملین روپے ادا کیے گئے ہیں۔تاہم، دو شٹل کارٹس، دو ڈیزل بسوں اور دو پنک وینز کی فراہمی ابھی باقی ہے۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم کے مستحقین کے انتخاب کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خواتین وکلاءکی فہرست طلب کی گئی تھی اور استفادہ کنندگان کی تعداد دستیاب اسکوٹیز سے زیادہ ہونے کی صورت میں بیلٹنگ کا طریقہ کار اختیار کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ضروری کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور بیلٹنگ کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے۔تاہم، عوامی فنڈز کے شفاف اور مناسب استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عدالت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، جو مستحقین کے انتخاب اور تقسیم کے مکمل عمل کا جائزہ لے گی۔کمیٹی کی سربراہی صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن عطائ اللہ لانگو کریں گے، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان یا ان کے نامزد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کنوینر ہوں گے۔ کمیٹی میں ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری نجم الدین آغا، سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ، درخواست گزاران انعم خیر اور شرمین رحمان، اکرم شاہ ایڈووکیٹ، شاہ رسول ایڈووکیٹ اور اے اے جی سلمیٰ عبدالفتاح شامل ہوں گے۔عدالت نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ 12 ستمبر 2026 بروز ہفتہ صبح 11 بجے اجلاس منعقد کرے اور ترجیحاً دس دن کے اندر فیصلہ کرے۔ کمیٹی کی منظوری کے فوراً بعد پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا اور اسے تین کام کے دنوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔لوکل بس اسٹینڈ کے لیے زمین کا معاملہ عدالت نے ڈبل روڈ فلائی اوور کے نیچے واقع سابق آکٹرائی گودام کی زمین، جسے لوکل بس اسٹینڈ کے لیے مختص کیا گیا ہے، کے معاملے پر بھی سخت ہدایات جاری کیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ منصوبے کی تخمینہ لاگت 441.650 ملین روپے تھی اور اسے پی ڈی ڈبلیو پی نے 16 جون 2025 کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ بعد ازاں کابینہ نے 19 جنوری 2026 کے اجلاس میں منصوبے کو پی ایس ڈی پی 2026-27 میں شامل کرنے کی منظوری دی، تاہم موجودہ پی ایس ڈی پی میں اس کی مناسب عکاسی نہ ہونے کے باعث منصوبے میں تاخیر ہوئی۔عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو زمین کا قبضہ دیا جا چکا ہے، اس لیے اب زمین کی مکمل حفاظت اور استعمال کو یقینی بنایا جائے۔عدالت نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ زمین کا مکمل فزیکل قبضہ یقینی بنایا جائے، جبکہ ڈی جی کیو ڈی اے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ زمین کی حفاظت کے لیے چوکیدار تعینات کرے اور ضرورت پڑنے پر باو¿نڈری وال بھی تعمیر کرے تاکہ کسی نجی شخص کو زمین پر غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روکا جا سکے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کو نظرثانی شدہ پی ایس ڈی پی 2026-27 میں منصوبہ شامل کرنے کے لیے محکمہ پی اینڈ ڈی کو جامع یاددہانی ارسال کرنے اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔کوئٹہ کے لیے 27 الیکٹرک فیڈر بسوں کی منظوری، فنڈز فوری جاری کرنے کا حکمکوئٹہ شہر کی خستہ حال اور غیر فٹ بسوں کے معاملے پر عدالت کو بتایا گیا کہ گرین بس سروس کے فیڈر روٹس کے لیے 27 الیکٹرک بسوں کی اسکیم پی ایس ڈی پی 2026-27 میں شامل کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے، جس کی تخمینہ لاگت 1,492.425 ملین روپے ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ گرین بسیں اس وقت مرکزی روٹس پر چل رہی ہیں جبکہ منظور شدہ 27 الیکٹرک بسیں شہر کے فیڈر روٹس پر چلائی جائیں گی، جس سے کوئٹہ کے مضافاتی اور نواحی علاقوں کے شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔عدالت نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے ضروری اجازت فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ محکمہ خزانہ مطلوبہ فنڈز جاری کر سکے اور منصوبے پر مزید تاخیر کے بغیر عملدرآمد شروع ہو۔سریاب سے کچلاک تک پیپلز ٹرین سروس، دو پارلر کوچز جلد کوئٹہ پہنچانے کا حکمسماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب سے کچلاک تک پیپلز ٹرین سروس کے منصوبے پر تقریباً 95 فیصد فزیکل اور 80 فیصد مالیاتی پیش رفت ہو چکی ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت دو پارلر کوچز خریدی جا چکی ہیں جو کیرج فیکٹری اسلام آباد میں تیار ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان کوچز کو پاکستان ریلوے کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا جانا باقی ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ڈویڑنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلویز کوئٹہ ریجن اور چیف آف ٹرانسپورٹ سیکشن پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز لاہور سے رابطہ کریں اور دو پارلر کوچز کی فوری فراہمی یقینی بنائیں۔عدالت نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا دفتر محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔کوئٹہ میں ٹریفک اور سبزی منڈی کے مسائل پر بھی رپورٹ طلب کیو ڈی اے کے وکیل محمد اکرم شاہ نے عدالت کو بتایا کہ گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں سڑک کی تعمیر، سبزی منڈی کے پلاٹ اور اس کے اطراف میں ٹریفک کے مسائل کو منظم کرنے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔عدالت نے اس معاملے پر آئندہ سماعت کے موقع پر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کو بہتر، محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکمے باہمی رابطے کے ساتھ عملی اقدامات یقینی بنائیں اور منظور شدہ منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے۔عدالت نے حکم کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفاتر کے ذریعے متعلقہ حکام کو معلومات اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ کسی قسم کی عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی۔
اہم خبربلوچستانپاکستان
کوئٹہ میں 27 الیکٹرک فیڈر بسوں کی منظوری، ہائیکورٹ کا فوری فنڈز جاری کرنے کا حکم
