اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سندھ میں قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سے ایک ہفتے میں تحریری سفارشات طلب کر لیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ دو، تین دن تاخیر سے ایف آئی آر درج ہوگی تو ملزمان کی بریت ہوگی، سندھ میں سزا کا تصور ہی نہیں، قتل کیسز کی ایف آئی آر میں تاخیر ناقابل قبول ہے۔جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ گھناو¿نے جرائم میں فوری ایف آئی آر درج کی جائے، ایف آئی آر کے اندراج کے لیے اجازت لینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم بااثر ہو تو روزنامچہ بند ہو جاتا ہے، فریادی وہی کہے گا جو آپ کہیں گے، قتل کیس میں وڈیرے کی اجازت کا انتظار ہوتا ہے، بہت ہو گیا، اس پالیسی کو چھوڑیں۔عدالت نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کرنے کا ایس او پی جاری کرنے اور تاخیر پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویز دیتے ہوئے آئی جی سندھ سے واضح اور دو ٹوک پالیسی طلب کی۔سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے کہا کہ ایف آئی آر میں تاخیر ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اگر ہاتھ بندھے ہیں تو ہم انہیں کھولنا چاہتے ہیں، پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی
اہم خبرپاکستان
سپریم کورٹ کا سندھ میں قتل کیسز میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار
