نیویارک :نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور او آئی سی سیکرٹری جنرل، رابطہ گروپ کے ارکان، خصوصی نمائندے برائے جموں و کشمیر اور او آئی سی آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے 81ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران اسحاق ڈار کی او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کو پہلے ہی اپنے پروگرام کا حصہ قرار دیا تھا۔ نیویارک میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں پر مسلسل پابندیاں تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق علاقے کی آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاملہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ کوئی ملکی قانون سازی، عدالتی فیصلہ، انتخابی عمل یا آبادیاتی تبدیلی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔اسحاق ڈار نے او آئی سی رکن ممالک پر زور دیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جموں و کشمیر کے معاملے پر متحدہ مو¿قف برقرار رکھا جائے۔ او آئی سی رابطہ گروپ میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان اور نائجر شامل ہیں، جبکہ گروپ ماضی میں بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر کشمیر سے متعلق مشترکہ مو¿قف سامنے لاتا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق تنازع کا حل متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ او آئی سی رابطہ گروپ کے 2025 کے مشترکہ اعلامیے میں بھی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا تھا
اہم خبرپاکستان
2025 کا پاک بھارت تنازع یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے، اسحاق ڈار
