اہم خبربلوچستان

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی/کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ اور کلیئرنس کارروائیوں کے دوران گزشتہ 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے کلیئر کیے گئے جبکہ بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے کوئٹہ کے علاقے شعبان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کیں۔ 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں شروع ہونے والی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے کلیئر کیے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن میں شدت لاتے ہوئے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مزید 23 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 25 ستمبر کو نوشکی میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران مند کے علاقے میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے منسلک 6 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا جبکہ متعدد علاقوں کو کلیئر کر کے مقامی آبادی کو درپیش خطرات کم کیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کو عزمِ استحکام کے فریم ورک کے تحت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔ بیان میں افغان طالبان حکومت کے دہشت گردی میں مبینہ کردار اور بھارت کی جانب سے مبینہ معاونت کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم یہ مو¿قف آئی ایس پی آر کا بیان کردہ مو¿قف ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *