کوئٹہ : صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی کی زیر صدارت یونیورسٹیز فنانس کمیشن (UFC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری خزانہ جہانگیر کاکڑ، سیکرٹری کالجز ہاشم غلزئی اور صوبے کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز و نمائندگان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے لیے جامعات کو مختص کیے گئے 8 ارب روپے کے فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار اور مجوزہ فارمولے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے کی مختلف جامعات کو درپیش مالی مسائل اور ضروریات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جامعات کے نمائندگان نے یونیورسٹیز فنانس کمیشن کے فورم پر اپنی جامعات کو درپیش مالی مشکلات اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی نے یقین دہانی کرائی کہ جامعات کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ امور کو حکامِ بالا کے نوٹس میں لایا جائے گا اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کیے جائیں گے۔اجلاس میں جامعات کے نمائندگان نے تنخواہوں اور پنشن کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی وزیر خزانہ، یونیورسٹیز فنانس کمیشن اور حکومتِ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات کے باعث اس وقت جامعات کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر مسئلہ درپیش نہیں۔اجلاس میں بالخصوص یونیورسٹی آف بلوچستان کے پنشن واجبات کے معاملے پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ حکومتِ بلوچستان کی منظوری سے محکمہ خزانہ نے یونیورسٹی آف بلوچستان کو 50 کروڑ روپے بطور قرض فراہم کیے ہیں، تاکہ یونیورسٹی کے دیرینہ پنشن واجبات (Pension Liabilities) کے مسئلے کے حل میں مدد مل سکے۔صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان صوبے کی جامعات کو درپیش مالی مشکلات کے حل اور اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں مالی استحکام نہ صرف اساتذہ اور ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے بلکہ معیاری تعلیم اور تحقیق کے تسلسل کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے
اہم خبربلوچستان
جامعات کیلئے 8 ارب روپے فنڈز کی تقسیم، مالی مشکلات کے حل پر غور
