کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ بلوچستان کا چہرہ ہے، صوبائی دارالحکومت کی خوبصورتی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ کوئٹہ آنے والے ملکی و غیر ملکی مہمانوں کو صوبے کی ترقی، ثقافت اور خوبصورتی کا مثبت تاثر ملنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ان کے معیار کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ترقیاتی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سڑکوں، گرین بیلٹس، پارکس، نکاسی آب اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات میسر آسکیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کوئٹہ صرف صوبائی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی شناخت اور صوبے کا چہرہ ہے، اس لیے شہر کی ترقی، خوبصورتی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے۔ حقائق اور تصور میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے دور حاضر میں بلوچستان کی درست تاریخ بیان نہیں کی جاتی، پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے، تاہم اس بنیاد پر کہیں بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کو ختم کرنے کی بات نہیں کی جاتی۔ بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا ، آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، نوجوان نسل اور ریاست کے مابین خلیج کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر اپنے نوجوانوں کو سن رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو حقائق اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے حالات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے بھی تاریخی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تاریخی حقائق اور اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے وزیراعلی بلوچستان نے بیوروکریسی کی جانب سے صوبے میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے بعض تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے بعض بیوروکریٹس بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک افسران گرانڈ پر آکر حالات کا مشاہدہ نہیں کریں گے انہیں زمینی حقائق کا درست علم کیسے ہوگا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اور وہاں کے عوام کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے زمینی حقائق سے آگاہی ضروری ہے پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں مقامی حالات، عوامی ضروریات اور حقیقی مسائل کو سامنے رکھنا ہوگا۔دوسری جانب وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو لاہور میں پاکستان مسلم لیگ (ق)کے مرکزی صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور ان کی مزاج پرسی کی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔وزیر اعلی نے چوہدری شجاعت حسین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی
اہم خبربلوچستان
کوئٹہ بلوچستان کا چہرہ، ترقی و خوبصورتی ترجیح ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
