اہم خبرپاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ پولیو کیسز پر اظہار تشویش، مربوط حکمت عملی کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہو گااور وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا فوری دورہ کر کے وزراءاعلیٰ اور چیف سیکریٹریز ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو پر جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔وزیراعظم نے ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات کی کامیاب انعقاد کے لیے فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم، محنت اور خدمات کو سراہااور کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات (روٹین امیونائزیشن) کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے۔وزیراعظم نے خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسدادِ پولیو مہمات کے لیے رسائی میں نمایاں بہتری کو قابلِ تحسین قرار دیا۔وزیراعظم نے ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد سے آگے بڑھنا ہو گا۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کا فوری دورہ کر کے وزراءاعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی اور کہا کہ ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ آج ہی ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہو گئی۔2026 میں صوبہءخیبر پختونخوا میں ضلع خیبر سے 3, بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا؛ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔رواں سال صوبہءسندھ میں ضلع کراچی شرقی سے ایک اور ضلع سجاول سے ایک پولیو کیس سامنے آیا ۔افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت پاکستان میں اس وقت پولیو کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔صوبہ پنجاب میں فروری 2025سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا؛ صوبہ بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں۔رواں سال صوبہءسندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔انسداد پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *