لندن (ویب ڈیسک) انٹرپول نے سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے رہنما مونس الٰہی کے قریبی دوست جبران خان کے خلاف آف شورکمپنی کی تحقیقات بند کردی ہیں، پاکستانی تاجر جبران خان کو انٹرپول نے تصدیق کی ہے کہ ایف آئی اے کی طرف سے بھیجے گئے ڈوزیئر کی تفتیش کے بعد کیس بند کردیاگیا۔
صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے اپنی رپورٹ میں بتایاکہ انٹرپول نے قرار دیا ہےکہ الزامات ثابت نہیں ہوسکے،ایف آئی اے نے اپنے کیس میں موقف اپنایا تھا کہ جنرل میڈیٹیرین ہولڈنگ کی ملکیت بالواسطہ یا بلاواسطہ جبران خان ک پاس ہے جو مونس الٰہی کے فرنٹ مین ہیں اور اسی کپیسٹی میں وہ کاروبار چلاتے ہیں، جبران خان کے وکلا نے انٹرپول کے سامنے یہ موقف اپنایا کہ مذکورہ کمپنی کے اصل مالک ایک عراقی تاجرہیں جن کا فوربز لسٹ میں بھی نام ہے، جب یہ کمپنی بنی تھی تو اس وقت جبران کی عمر صرف تین سال تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے شبہ ظاہر کیا تھاکہ جبران کے والد مشرف کابینہ میں وزیر صحت بھی رہے، چوہدری فیملی کے ان کے ساتھ تعلقات رہے اور اس طرح جوڑا گیا کہ مونس کے فرنٹ مین ہیں، انٹرپول کے سامنے ثابت کیاگیاکہ یہ سیاسی بنیاد پر کیس بنایا گیا ، انٹرپول نے وہ انٹری ختم کرکے جبران کو کلیر کردیا۔ چند ماہ قبل بھی مونس الٰہی کے خلاف الزامات بھی ختم کردیے تھے ،اب دونوں کیسز انٹرپول نے بند کردیے۔
انٹرنیشنل
انٹرپول نے ناکافی شواہد کے باعث جبران خان کے خلاف جاری تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا
