انٹرنیشنل

’ارب پتی شخص کی آیا‘ کی پُرتعیش زندگی: ’فرانس سے فراری لینے کے لیے مجھے راتوں رات اپنا بیگ تیار کرنا پڑا‘

’آپ نے وہ کہاوت تو سُنی ہو گی کہ ایک دن میں سب کے پاس کام کرنے کے لیے ایک جتنا وقت ہوتا ہے، یعنی 24 گھنٹے۔ مگر یہ جھوٹ ہے!‘

یہ کہنا ہے برازیل سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ خاتون جولیانا پاساریلی کا، جو ایک ارب پتی کاروباری شخصیت کی پرسنل اسسٹنٹ (ذاتی معاون) ہیں۔

جولیانا کہتی ہیں کہ جس شخص کے پاس میں کام کرتی ہوں ’اُس کے پاس میرے 24 گھنٹے بھی ہوتے ہیں۔‘

جولیانا اپنے 35 سالہ کروڑ پتی باس کا ہر وہ کام کرتی ہیں جو وہ خود سے نہیں کرنا چاہتے۔ پھر چاہے وہ اُن کے لیے5,000 ڈالر مالیت کے سوٹ کا انتخاب ہو، اُن کی سالگرہ کی تقریب کا انتظام کرنا ہو یا اُن کے بیٹے کے لیے سکول کی چیزیں خریدنی ہوں۔

لیکن اُن کی روزمرہ زندگی میں بعض دن اُن ’عام سے کاموں‘ سے بڑھ کر زیادہ غیر معمولی بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار اُن کے باس نے انھیں اچانک فرانس جانے کو کہا تاکہ وہ اُن کے لیے ایک فراری گاڑی خرید سکیں!
اس واقعے سے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ ’مجھے فرانس جانے کے لیے راتوں رات اپنا سامان پیک کرنا پڑا کیونکہ میرے باس نے فراری کا ایک خاص کلیکٹر ایڈیشن خریدا تھا۔ ہم پیرس کے قریب ایک شہر گئے اور مجھے گاڑی کو فرانس سے برازیل لانے کے تمام کاغذی معاملات نمٹانے پڑے۔‘

جولیانا نے ایڈوٹیزمینٹ میں گریجویشن اور مارکیٹنگ میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے
جولیانا کی اس دلفریب نظر آنے والی نوکری کا کوئی مقررہ شیڈول نہیں ہے یعنی یہ طے نہیں ہے کہ وہ دن یا رات کے کس وقت میں کام کریں گے۔ ایک دن انھیں باس کے کتے کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑ سکتا ہے یا باس کے دانتوں کے ڈاکٹر کی اپوائنٹمنٹ بُک کرنی پڑ سکتی ہے۔ بلوں کی ادائیگی بھی انھی کی ذمہ داری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ جانتے ہیں جب آپ کو دن میں بہت سے کام کرنے ہوں اور آپ سوچتے ہیں کہ اوہو میں فلاں کام تو بھول ہی گئی۔۔۔ مگر یہ میرے ساتھ نہیں ہوتا، مصروف شیڈول کے باوجود میں کچھ نہیں بھولتی۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *