میں ریڈ سکوائر پر یومِ فتح کی کئی پریڈز میں شریک ہو چکا ہوں، لیکن اس سال کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی۔
گذشتہ برسوں میں مجھے سینٹ باسل کے قریب پارک کی گئی میڈیا بس سے اتر کر دوڑ کر جانا پڑتا تھا تاکہ پریس ایریا میں کوئی اچھی جگہ حاصل کر سکوں۔
لیکن اس سال دوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تقریب میں صحافیوں کی تعداد کہیں کم تھی اور بہت سے بین الاقوامی میڈیا اداروں کو رسائی نہیں دی گئی تھی۔
جب میں ریڈ سکوائر میں اپنی جگہ پر پہنچا تو روسی ٹی وی کی ایک ٹیم میرے پاس آئی اور فلم بندی شروع کر دی۔
رپورٹر مسکراتے ہوئے بولا: ’سٹیو! آپ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی میڈیا کو آنے دیا گیا ہے۔‘
میں نے جواب دیا: ’حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ مجھے یہاں اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘
اس کے باوجود میں وہاں اپنے موجود ہونے پر خوش تھا، تاکہ خود دیکھ سکوں کہ سنہ 2026 کی یومِ فتح کی پریڈ کیسی دکھائی دیتی ہے۔
صحافیوں کی کم تعداد کے ساتھ ساتھ سٹینڈز میں مہمان بھی کم تھے، اور عالمی رہنماؤں کی تعداد بھی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔
لیکن سب سے نمایاں فرق تب سامنے آیا جب پریڈ شروع ہوئی۔
نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچرز اور نہ ہی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل۔ یعنی وہ فوجی ساز و سامان نظر نہیں آیا جسے کریملن عام طور پر یومِ فتح پر روسی عسکری طاقت کے اظہار کے لیے پیش کرتا ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال کی پریڈ کو محدود سطح پر منعقد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مہمانوں اور صحافیوں کی تعداد بھی کم رہی۔ حکام نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات قرار دیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یوکرین ڈرونز کے ذریعے ریڈ سکوائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
