ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نیتن یاہو نے اب کھل کر اس بات کا انکشاف کر دیا ہے جس سے ایران کے سکیورٹی ادارے کافی عرصہ پہلے ہی قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔‘
عراقچی نے سخت لہجے میں ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’عظیم ایرانی قوم کے ساتھ دشمنی ایک احمقانہ جوا ہے اور اس راستے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون اور گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔‘
اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’جو عناصر اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔‘
ان کے ان بیانات کو متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے جنگ کے دوران ممکنہ دورۂ امارات کی خبر سامنے آنے کے علاوہ، حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا کی جانب سے یہ رپورٹس بھی خاصی زیرِ بحث رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امارات اور سعودی عرب نے ایران کے خلاف خفیہ فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔
