امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے روکنے کی تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے لگتا ہے کہ وہ پہلے کے اپنے سخت مؤقف سے کچھ پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ اس سے قبل وہ ایران سے جوہری سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ چاہتے تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مدت ’حقیقی طور پر 20 سال‘ ہونی چاہیے۔ ماضی میں وہ ایران سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی، جوہری ہتھیار بنانے کے ایک اہم مرحلے کو مستقل طور پر بند کرے اور اسے مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر اُن کا صبر ختم ہو رہا ہے۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی افواج نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ قائم ہونے والی جنگ بندی، جس کا مقصد مذاکرات کے لیے ماحول سازگار کرنا تھا، مجموعی طور پر برقرار رہی ہے اگرچہ کہیں کہیں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ پاکستان اس تمام صورتحال میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس کے باوجود دونوں فریق تاحال ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر دکھائی دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی حالیہ تجاویز کو مسترد کر چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں جنگ کا تمام محاذوں پر فوری خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران پر مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل تھی۔ اس میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب الله پر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔
