موجودہ مالی سال میں اپریل کے مہینے کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں تھا۔ اپریل میں اس خسارے کی بڑی وجوہات مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں اور درآمدات میں اضافہ ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ گذشتہ برس اسی مہینے یہ خسارہ محض ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔
مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ کے دوران مجموعی خسارہ 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا، جب کہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ میں یہ تبدیلی عالمی معاشی دباؤ، درآمدات میں اضافے اور برآمدات کی کمزور رفتار کا نتیجہ ہے۔ خدمات کے شعبے میں سرپلس میں کمی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں معمولی کمی نے بھی خسارے میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان کا درآمدی بل مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے تجارتی اور بیرونی خسارے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ پاکستان اپنی مجموعی درآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر خرچ کرتا ہے۔
جے ایس گلوبل کے تجزیہ کار وقاص غنی کے مطابق پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال فی الحال مستحکم ہے، تاہم یہ زیادہ تر قرضوں اور بیرونی فنانسنگ پر انحصار کرتی ہے، نہ کہ غیر قرضہ جاتی سرمایہ کاری پر۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر اعتماد رکھتے ہیں، تاہم حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کی بنیادی مسابقتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، جو تجارتی خسارے اور بیرونی شعبے کی نازک صورتحال کی بڑی وجوہات ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں مالی سال 2026 کے لیے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی پیش گوئی کی ہے، جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ قرار دی گئی ہے۔
