دبئی پاکستانی عالمِ دین، مدرس اور تعلیمی منتظم مفتی بلال احمد مدنی نے متحدہ عرب امارات میں کئی برسوں سے جاری اپنی علمی، دینی اور تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ امریکا تک وسیع کر دیا ہے۔ ریاست ٹیکساس میں مقیم بلال مدنی اب اسلامی مالیات، جدید تجارتی معاملات، خاندانی مسائل، نوجوانوں کی فکری تربیت اور مسلم کمیونٹی کو درپیش نئے شرعی سوالات پر کام کر رہے ہیں۔
پاکستان میں حفظِ قرآن، درسِ نظامی، عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ تدریس، دینی رہنمائی اور تعلیمی انتظام کے شعبوں سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں متحدہ عرب امارات میں انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو منظم کیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف ممالک میں مقیم مسلمانوں تک دینی تعلیم پہنچانے کے لیے my ٠Al Bayan Acade قائم کی۔
ادارے کے مطابق اس وقت ایک ہزار سے زائد فعال طلبہ قرآن فہمی، تجوید، حفظ، ترجمہ و تفسیر، عربی زبان اور اسلامی علوم کے مختلف پروگراموں سے منسلک ہیں، جبکہ تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے ایک بین الاقوامی ٹیم کام کر رہی ہے۔
بلال مدنی کا کہنا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد صرف روایتی انداز میں دینی تعلیم فراہم کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا جامع علمی نظام تشکیل دینا ہے جو قرآن و سنت، فقہ، اخلاق، خاندانی زندگی، معاشرتی ذمہ داری اور جدید دور کے مالی و تجارتی مسائل کو بھی شامل کرے۔
ان کے مطابق موجودہ نسل کو اسلامی تعلیمات کا تعلق عملی زندگی سے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دین صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ تعلیم، ملازمت، کاروبار، سرمایہ کاری، خاندانی تعلقات اور معاشرتی معاملات میں بھی واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
امریکا منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو مقامی مسلم کمیونٹی کی علمی اور عملی ضروریات سے مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کو عبادات کے ساتھ بینکاری، انشورنس، ملازمت کے معاہدوں، کاروباری شراکت، سرمایہ کاری، آن لائن تجارت اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق پیچیدہ شرعی سوالات کا بھی سامنا رہتا ہے۔
بلال مدنی اسلامی مالیات، شریعہ آڈٹ اور جدید تجارتی معاملات سے متعلق تخصصی مطالعے اور تربیتی پروگراموں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ان کی توجہ ایسے مالی معاملات کو سمجھنے پر ہے جن میں روایتی فقہی اصولوں کو جدید کاروباری ڈھانچے، معاہدوں اور ٹیکنالوجی کے تناظر میں لاگو کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ان موضوعات میں اسلامی بینکاری، کاروباری معاہدے، قسطوں پر خرید و فروخت، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل کرنسی، کرپٹو اثاثے، فاریکس ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری کے جدید طریقے شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی جدید مالی معاملے کا شرعی حکم بیان کرنے سے پہلے اس کی حقیقی نوعیت، قانونی ساخت، ملکیت، خطرے، نفع و نقصان اور فریقین کے حقوق کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف کسی مالی پراڈکٹ یا کاروبار کا نام سن کر اسے حلال یا حرام قرار دینا علمی اعتبار سے کافی نہیں، بلکہ اس کی مکمل عملی صورت کا جائزہ لینا چاہیے۔
امریکا میں علمی خدمات کی توسیع کے ساتھ *Al Bayan Fatwa Center* کے ذریعے شرعی رہنمائی کا باقاعدہ سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد امریکا اور کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کو عبادات، نکاح و طلاق، وراثت، خاندانی اختلافات، ملازمت، کاروبار اور مالی معاملات سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
مرکز میں اردو، انگریزی اور عربی زبانوں میں سوالات وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ ٹیلی فون، آن لائن رابطے اور تحریری جوابات کے ذریعے مختلف لسانی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی معاونت کی جاتی ہے۔
بلال مدنی کے مطابق مغربی ممالک میں پیش آنے والے شرعی مسائل کو سمجھنے کے لیے صرف فقہی کتابوں سے حکم نقل کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ متعلقہ ملک کے قوانین، کاروباری نظام، خاندانی حالات اور سماجی ماحول کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیچیدہ خاندانی، وراثتی اور مالی معاملات میں مکمل معلومات اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کے بعد رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، کیونکہ نامکمل معلومات کی بنیاد پر دیا گیا جواب مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
مقامی سطح پر وہ مساجد اور مسلم اداروں کے ساتھ قرآن فہمی، اسلامی مالیات، خاندانی استحکام، نوجوانوں کی تربیت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ سے متعلق مختلف پروگراموں کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ ان پروگراموں میں انگریزی کو بنیادی زبان کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ ضرورت کے مطابق اردو اور عربی میں بھی وضاحت فراہم کی جائے گی۔
ان کے مطابق امریکا میں پیدا ہونے اور تعلیم حاصل کرنے والے مسلم نوجوانوں سے مؤثر رابطے کے لیے ایسا علمی انداز اختیار کرنا ضروری ہے جس میں ان کے سوالات، تعلیمی ماحول اور سماجی حالات کو سمجھا جائے۔ نوجوانوں کو صرف احکامات سنانے کے بجائے دلیل، مکالمے اور عملی مثالوں کے ذریعے اسلامی نقطۂ نظر سمجھانا زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
بلال مدنی نے متحدہ عرب امارات میں جاری اپنے ہفتہ وار دینی اور تعلیمی پروگراموں کو امریکا منتقل ہونے کے بعد بھی آن لائن جاری رکھا ہے۔ ان نشستوں میں امریکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں مقیم خاندان شریک ہوتے ہیں، جبکہ قرآن کریم کی تشریح، خاندانی مسائل، نوجوانوں کی تربیت اور موجودہ دور کے دینی و معاشرتی موضوعات پر گفتگو کی جاتی ہے۔
حج و عمرہ کی تربیت بھی ان کی خدمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ حج سیزن میں تقریباً 70 عازمینِ حج کو مناسک اور سفر سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔ آئندہ پروگراموں میں مناسک کے ساتھ صحت، نظم و ضبط، سفر کی تیاری اور دورانِ حج پیش آنے والے عملی مسائل کو بھی تربیت کا حصہ بنایا جائے گا۔
وہ قرآن کریم کی تفسیر، تجوید، حج اور دیگر اسلامی موضوعات پر کتابوں اور تعلیمی مواد کی تیاری سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دینی مواد کو علمی معیار برقرار رکھتے ہوئے ایسی زبان میں پیش کیا جانا چاہیے جس سے عام تعلیم یافتہ افراد، نوجوان اور خاندان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔
بلال مدنی کے مستقبل کے منصوبوں میں اسلامی مالیات سے متعلق علمی نشستیں، قرآن فہمی کے کورسز، نوجوانوں کے تربیتی پروگرام، خاندانی رہنمائی، عربی زبان کی تعلیم اور امریکا میں شرعی مشاورتی خدمات کو مزید منظم کرنا شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کو اپنی دینی شناخت محفوظ رکھنے کے ساتھ تعلیم، کاروبار اور معاشرتی خدمت کے میدانوں میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مضبوط علمی رہنمائی، مستحکم خاندانی نظام اور نوجوانوں کے ساتھ مؤثر رابطہ مسلم کمیونٹی کے بہتر مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان
پاکستانی عالمِ دین مفتی بلال احمد مدنی نے علمی و دینی خدمات کا دائرہ متحدہ عرب امارات سے امریکا تک وسیع کر دیا
